حضرت اُمّ الفضل لبابۃُ الکبریٰ ؓ — Page 4
حضرت ام الفضل لبابة الكبرى 4 بدر کے مقام پر یہ غزوہ پیش آیا۔اس غزوہ میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی، اور بے سروسامانی تھی ، اس کے مقابل پر کفار تین گنا تھے اور ہر قسم کے جنگی سامان کے ساتھ لیس تھے اور انہیں یہی گمان تھا کہ اب اسلام کا خاتمہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفار پر فتح بخشی اور مشرکین مکہ کو ذلت کا سامنا ہوا۔یہ خبر جب مکہ پہنچی کہ ملکہ کے تمام بڑے بڑے سردار ہلاک ہو چکے ہیں تو گھر گھر سے رونے پیٹنے کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔صلى الله ابولہب، معاند رسول علی جو دشمنی میں حد سے بڑھا ہوا تھا اُسے تو شکست کا غم اور اتنے بڑے بڑے سرداروں کے مرنے کا غم بر داشت نہیں ہورہا تھا۔اُس کے تو پیروں تلے زمین نکل گئی تھی اور جسم دیکھ اور غصہ سے لڑ کھڑا رہا تھا۔اس پریشانی کے عالم میں لڑائی کے مزید حالات معلوم کرنے کے لئے اپنے بھائی عباس بن عبدالمطلب کے گھر جا پہنچا اس وقت جاؤ تک عباس نے اسلام قبول نہ کیا تھا۔عباس بھی غزوہ بدر میں کفار کی طرف سے لڑے تھے اور شکست کھانے کے بعد مسلمانوں کے قیدی بن چکے تھے۔ابولہب جب عباس کے گھر پہنچا تو اُن کا غلام ابو رافع نیزے بنانے میں مصروف تھا۔ابولہب ان کے قریب بیٹھ گیا۔اتنے میں کسی نے گھر میں کہا کہ وہ دیکھو ابوسفیان الله بن حارث ( جو کہ نبی کریم ﷺ کا چا زاد بھائی تھا اور ابھی تک اسلام قبول