حضرت اُمّ الفضل لبابۃُ الکبریٰ ؓ

by Other Authors

Page 3 of 20

حضرت اُمّ الفضل لبابۃُ الکبریٰ ؓ — Page 3

حضرت ام الفضل لبابة الكبرى 3 الله حضرت اُمّ الفضل کے آنحضرت علی کے خاندان کے ساتھ بہت محبت اور پیار کے تعلقات تھے کہ خود نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ ام الفضل ، میمونہ ، سلمی اور اسماء چاروں بہنیں ہیں۔نیز حضرت ام الفضل کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ حضرت خدیجہ کی وفات پر حضرت ام الفضل اور حضرت اُم یمن نے ان کو نہلایا اور حضرت ام الفضل غم کے اس موقع پر حضور اللہ کوتسلی دیتی رہیں۔(1) عرب معاشرے میں جہاں عورت اس درجہ پر نہ سمجھی جاتی تھی کہ زندگی کا کوئی بھی فیصلہ وہ از خود کر لے ، یہ بات حضرت ام الفضل کو بہت نمایاں کرتی ہے کہ انہوں نے اپنے خاوند حضرت عباس سے کہیں پہلے اسلام قبول کیا۔سارے خاندان کو چھوڑ کر بالکل اکیلے آنحضرت ملے پر ایمان لانا آپ کی بہادری اور جرات کا ثبوت ہے۔ایسی کامل وفا کے ساتھ اسلام پر کار بند ہوئیں کہ نہ صرف اولاد کی دینی تربیت کی بلکہ اولاد میں دین کے لئے وقف کرنے کا جذ بہ بھی پیدا کیا۔کفار کی اذیتوں اور سختیوں کی وجہ سے مسلمانوں نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی۔کفار نے وہاں بھی آرام نہ لینے دیا اور ہجرت کے دوسرے سال خوب ساز وسامان کے ساتھ لیس ہو کر مسلمانوں کو مٹانے کے لئے مدینہ پر چڑھائی کی تیاری کی۔مسلمانوں نے دفاع کے لئے تیاری کی اور