حضرت اُمّ الفضل لبابۃُ الکبریٰ ؓ — Page 15
حضرت ام الفضل لبابة الكبرى الله 15 حضرت عبید اللہ بن عباس حضرت عبداللہ کے چھوٹے بھائی صلى الله تھے ہجرت نبوی سے ایک سال پہلے پیدا ہوئے۔نبی کریم نے کو حضرت اُمّ الفضل کے بچوں سے بے پناہ محبت تھی ، بار ہا ایسا ہوتا کہ نبی کریم ملے ان کو بلاتے اور کہتے ، جو بھاگ کر پہلے آئے گا میں اُس کو صلى الله فلاں چیز دوں گا۔جب تینوں بچے دوڑ کر آتے تو نبی کریم علی ان کو سینے سے لگا لیتے اور پیار کرتے۔(11) حضرت ام الفضل کے ان بیٹوں کے علاوہ ایک بیٹی ام حبیبہ کا ذکر بھی تاریخ میں ملتا ہے۔ان کی شادی اسود بن سفیان سے ہوئی ، جن سے دو بچے زرقا اور لیا یہ ہوئے۔یہ مکہ میں رہتے تھے۔حضرت ام الفضل وہ بلند پایہ صحابیہ تھیں جنہوں نے 20 احادیث بیان کی ہیں۔ان کی بیان کردہ احادیث کے راوی حضرت عبداللہ ، دوسرے فرزندان ، عباس اور حضرت انس بن مالک جیسے جلیل القدر صحابی شامل ہیں۔(12) آپ وہ مومنہ خاتون تھیں جس نے خود بھی اور بچوں نے بھی نبی کریم ﷺ سے محبت اور عقیدت کا حق ادا کیا اور آپ ﷺ کی شفقتوں اور دعاؤں کے وارث بنے۔آپ نے حضرت عثمان غنی ذوالنورین کے عہد خلافت میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔اس وقت تک ان کے شو ہرا بھی زندہ تھے۔آپ کی نماز جنازہ حضرت عثمان غنی نے پڑھائی۔(13)