حضرت اُمّ الفضل لبابۃُ الکبریٰ ؓ — Page 13
حضرت ام الفضل لبابة الكبرى 13 کام میں ان سے مشورہ کرتے۔اگر سواری پر کہیں جا رہے ہوتے تو خلیفہ المسلمین بھی سواری سے اتر جاتے اور حضرت عباس کو سواری پر بیٹھا کر لگام خود تھام کر پیدل چلتے اور انہیں جہاں جانا ہوتا وہاں پہنچاتے۔حضرت عباس نے حضرت عثمان غنی کے دور خلافت میں 32 ہجری کو وفات پائی اس وقت ان کی عمر 86 یا 88 برس تھی۔حضرت عثمان نے نماز جنازہ پڑھائی اور حضرت عبد اللہ بن عباس نے قبر میں اتارا۔(8) حضرت ام الفضل اور حضرت عباس کے ہاں سات اولادیں ہوئیں۔ان میں چھ بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔بیٹوں کے نام فضل ، عبداللہ، عبید الله معبد، قسم، عبدالرحمن اور ایک بیٹی ام حبیبہ ہے۔(9) اولاد کی اچھی تربیت ہی ایک ایسا ورثہ ہے جو رہتی دنیا تک کے لئے صدقہ جاریہ ہوتا ہے۔حضرت اُمّ الفضل اس لحاظ سے خوش قسمت تھیں کہ ان کی اولادیں اکثر علم وفضل میں اعلیٰ مقام رکھتی تھیں۔بالخصوص حضرت عبداللہ اور عبید اللہ نے علم و فضل میں اتنا بلند مرتبہ حاصل کیا کہ اُمت کے ستون کہلائے۔آپ کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ بن عباس نبی کریم اللہ سے بے پناہ محبت رکھتے تھے۔اکثر و بیشتر نبی کریم ﷺ کے گھر مبارک پر اپنی خالہ اُم المؤمنین حضرت میمونہ کے پاس حاضر ہوتے اور وہیں