حضرت اُمِّ کلثوم ؓ — Page 6
حضرت ام کلثوم بنت حضرت محمد الله حضرت سودہ کو ہمراہ لے آئیں۔6 یہ صحرا آپ نے حضرت ابو رافع " کے ساتھ پار کیا اور زندگی میں پہلی مرتبہ اتنے لمبے سفر کی مشکلیں برداشت کیں۔اس وقت حضور علی صلى الله مدینہ میں مسجد نبوی کی تعمیر میں مصروف تھے اور حکمت عملی یہ تھی کہ مسجد نبوی کے احاطہ میں ہی حضور ﷺ کا مکان تعمیر کیا جائے تا کہ آپ ﷺ کے اہل خانہ بھی آپ میلے کے ساتھ رہ سکیں۔چونکہ ابھی تک مکان تعمیر نہ ہوا صلى الله تھا، اس لئے وقتی طور پر حضرت حارث بن نعمان کے مکان پر آپ علی کے اہل خانہ کو ٹھہرایا گیا۔حضرت اُم کلثوم اور حضرت فاطمہ ، حضرت سودہ کی معیت میں کچھ عرصہ حضرت حارث کے مکان میں ہی رہیں اور پھر اپنا مکان تعمیر ہونے پر مسجد نبوی کے احاطہ میں منتقل ہو گئیں۔2 ہجری کو کفار مکہ نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔یہ معرکہ بدر کے مقام پر ہوا۔کئی صحابہ کرام اس جنگ میں شہید ہو گئے۔جنگ بدر کے دوران حضرت رقیہ سخت بیارتھیں۔حضور ﷺ نے حضرت عثمان کو حکم دیا کہ آپ بیگم کی تیمارداری کے لئے مدینہ سے نہ نکلیں۔حضرت رقیہ کی حضرت عثمان نے دل و جان سے تیمارداری کی لیکن وہ صحت یاب نہ ہو سکیں اور عین جنگ کے روز وفات پاگئیں۔دوسری طرف حضرت عمر کے داماد خنیس بن حذافہ جو حضرت حفصہ