حضرت اُمِّ ہانی ؓ

by Other Authors

Page 8 of 18

حضرت اُمِّ ہانی ؓ — Page 8

حضرت اُم ہانی رضی اللہ عنھا اس کی عزت کا پورا پورا خیال رکھا۔اسے ایک یا دو مردوں کو پناہ دینے کی اجازت دی۔حضرت ام ہانی رضی اللہ علما کا اپنے سسرالی عزیزوں کے ساتھ احترام اور محبت کا تعلق تھا اور آپ نے اپنے دو ایسے سرالی رشتہ دار مردوں کو پناہ دی جن کو قتل کرنے کا حکم تھا۔ہمارے نبی کریم اللہ نے ان کی پناہ کو قبول فرمایا۔حضرت اُم ہانی رضی اللہ عنھا اس واقعہ کے بارے میں بیان کرتی ہیں:۔وو " جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے بالائی جانب پڑاؤ کیا تو بنو مخزوم کے دو آدمی دوڑ کر میرے پاس آئے اور ان کے پیچھے میرا بھائی علی بن ابی طالب بھی داخل ہوا اور اس نے کہا اللہ کی قسم میں انہیں قتل کروں گا۔میں نے اپنے گھر کا دروازہ بند کر دیا اور کہا کہ میں نے ان کو امان دی۔پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی آپ ﷺ نے فرمایا اے اُم ہانی خوش آمدید کیسے آنا ہوا ؟ میں نے آپ عمل کو دونوں آدمیوں اور اپنے بھائی علی کا میرے گھر داخل ہونے کا واقعہ بیان کیا۔آپ میں لے نے فرمایا : ” جس کو تُو نے پناہ دی اُسے ہم نے پناہ دی ، اے ام ہانی رضی اللہ عھا جس کو تو نے امان دی اسے ہم نے امان دی ، علی ان دونوں کو قتل نہیں کرے گا۔“