تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 71

تحفه بغداد رب العالمين۔اردو تر جمه وحيرة السماوات و خلطاؤها اور ان کے ہمنشیں ہیں۔وہ اپنے مقامات سے لا يفارقون مقاماتهم وإن الگ نہیں ہوتے اور ان میں سے ہر ایک کا ایک منهم إلا له مقام معلوم يفعلون مقررہ مقام ہے۔وہ وہی کچھ کرتے ہیں کہ جس کا ما يؤمرون ولا يشغلهم شأن انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ان کا ایک کام دوسرے کام عن شأن ويؤدون طاعة میں مخل نہیں ہوتا اور وہ رب العالمین کی اطاعت گزاری کرتے ہیں۔ولو كان مدار انصرام مهماتهم اور اگر فرشتوں کو اپنی مہمات کے انتظام و تباعُدهم من مقاماتهم لما جاز انصرام کے لئے اپنے مقامات سے جدا ہونا ہوتا تو أن تُتوفَّى الأنفس فی آن بہت سے لوگوں کا بیک وقت وفات پاناممکن نہ واحد بل وجب أن لا يموت ہوتا۔بلکہ یہ لازم ٹھہرتا کہ مشرق میں مرنے والا ميت في المشرق في الآن کوئی شخص اُس گھڑی میں جو اللہ نے اُس کے لئے الذى قدر الله له قبل أن يفرغ مقدر کی ہوئی تھی اس وقت تک نہ مرتا جب تک کہ ملك الموت من قبض نفس ملک الموت مغرب میں کسی اور ایسے ہی شخص کی رجل فـي الـمـغـرب الذي هو روح قبض کرنے سے فارغ نہ ہوجاتا جو پہلے شریک بالمائت الأوّل فی مرنے والے شخص کا اسی مذکور گھڑی میں شریک الآن المذكور وقبل أن يرحل تھا۔اور پھر مشرق کی طرف سفر کر کے وہاں نہ پہنچتا۔إلى المشرق، وإن هذا إلا اور یہ صریح جھوٹ ہے۔ان (فرشتوں) کا تو بس كذب مبين۔إنما أمرهم إذا یہی کام ہے کہ جب وہ اللہ کے حکم سے کسی امر کا أرادوا شيئا بِحُكْمِ الله أن يقولوا ارادہ کر لیتے ہیں تو اُسے کہتے ہیں کہ ہو جا، تو وہ ہوکر له كن فيكون وما كان لهم أن رہتا ہے۔انہیں نازل ہونے کے لئے جان ۷۵