تحفہٴ بغداد — Page 65
تحفه بغداد اردو تر جمه فالحق أن الأحاديث أكثرها پس حق یہ ہے کہ اکثر احادیث آحاد ہیں۔خواہ آحاد ولو كانت في البخاری وہ بخاری میں ہوں یا اس کے علاوہ کسی اور کتاب أو في غيره ولا يجب قبولها میں۔ایسی (احادیث) کو تحقیق و تنقید اور کتاب إلا بـعـد التـحـقـيـق والتنقيد و اللہ کی اس شہادت کے بعد کہ وہ (احادیث) شهادة كتاب الله بأن لا يُخالفها قرآنى بينات اور محکمات کے مخالف نہیں ، انہیں في بيناته ومحكماته وبعد النظرِ قبول کرنا واجب ہے، نیز قوم کے تعامل اور عاملین إلى تعامل القوم وعِدّة العاملین کی کثرت کو دیکھنے کے بعد ہی ان (احادیث) کو فإذا كان الأمر كذلك فكيف قبول کیا جا سکتا ہے۔پس جب صورتِ حال یہ ہے يُكفر أحد لترك حديث يعارض تو کسی شخص کی اس وجہ سے کہ اس نے قرآن سے القرآن أو لأجل تأويل يجعل معارض حدیث کو ترک کر دیا ہے۔یا اس تاویل کی الحديث مطابقا بالقرآن وجہ سے جو حدیث کو قرآن کریم کے مطابق کر کے ويُنجى المسلمين من أيدى مسلمانوں کو معترضین کے ہاتھوں نجات دلا دے المعترضين؟ وكيف تكفّرون کیونکر کافر قرار دیا جا سکتا ہے۔تم اللہ ، اس کے المؤمن بالله ورسوله و کتابها رسول اور اس کی کتاب پر ایمان لانے والے کو لأجـل حــديـــث مـن الآحاد أحاد احادیث میں سے ایک ایسی حدیث کی وجہ الذي يُحتمل فيه شائبة سے کیسے کا فر ٹھہرا سکتے ہو؟ جس میں کا ذبوں کے كذب الكاذبين؟ کذب کی آمیزش کا احتمال بھی ہو۔فانظر مثلا إلى مسألة وفاة مثلاً آپ مسیح علیہ السلام کی وفات کے مسئلہ پر المسيح عليه السلام فإنها قد نگاہ ڈالو کہ وہ کتاب اللہ متواتر صحیح کی بینات سے ثبت بينات كتاب الله المتواتر ثابت ہو چکی ہے اور ان کی وفات پر قریباً تمیں ۶۹