توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 55 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 55

توہین رسالت کی سزا عرب شاعری: ( 55 ) قتل نہیں ہے مندرجہ بالا سطور میں چونکہ کعب کی شاعری کا ذکر ہوا تھا اس لئے ضروری ہے کہ قبل اس کے کہ ہم دیگر روایات کے تفصیلی تجزیئے میں داخل ہوں، اس معاشرے کے اس بنیادی عنصر کا بھی کچھ جائزہ لیتے جائیں جو توہین رسول کے مسئلے میں اہم کردار کا حامل ہے۔اس زمانے میں عرب میں شاعری ایک موثر ذریعہ ابلاغ تھا۔آج اگر کسی خبر کی اشاعت کی ضرورت ہو تو اخبار ، ریڈیو، ٹیلیویژن اور انٹر نیٹ وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔قدیم عرب میں بات کو پھیلانے کے لئے شاعری ایک موثر ترین ذریعہ تھا۔وہ لوگ اپنے پیغام یا مقصد کو شعروں میں ڈھال کر سنادیتے تھے۔ویسے بھی شعر یاد کرنا اور سنانا سب سے آسان اور کار گر طریق تھا۔چنانچہ اس سے پیغام آناً فاناًازبانِ زدِ عام ہو جاتا تھا۔زمانہ جاہلیت کے شعراء کا کلام آج تک محفوظ ہے۔اس کے اندر جو فصاحت و بلاغت ، زور اور جوش و خروش، آزادگی ، کھلا پن اور طبعی بہاؤ وغیرہ ایسی صفات ہیں جو کسی اور وقت یا زبان کی شاعری میں کم دکھائی دیں گی۔اس زمانے کے شعراء میں ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ اپنے دلی خیالات کو نہایت بے تکلفی کے ساتھ بالکل عریاں الفاظ میں کہہ جاتے تھے۔کوئی تصنع نہیں۔کوئی بناوٹ نہیں۔طبیعت پر کوئی زور نہیں۔اسی لئے ان کا کلام ، ان کے خیالات، جذبات ، عادات اور ان کی شخصیت کی پوری پوری ترجمانی کرتا تھا۔عرب قوم اس خوبی کو خود بھی خوب سمجھتی تھی۔چنانچہ ان کے شعراء گویا ایک پہلو سے ملک کے راہنما سمجھے جاتے تھے۔انہیں یہ طاقت حاصل تھی کہ اپنے زور کلام سے دو قبائل کے درمیان جنگ کروا دیں اور علاقے میں آگ لگا دیں۔عرب کے خاص خاص مقامات میں شعراء جمع ہو کر اپنے کلام کے جو بن دکھاتے تھے۔عکاظ کا مقام جو نخلہ اور طائف کے در میان مکہ