توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 373 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 373

توہین رسالت کی سزا { 373 ) قتل نہیں ہے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر کہ وہ کون کون تھے ، رسول اللہ صلی الیم نے حضرت حذیفہ کو بھی ان کے ناموں سے آگاہ فرما دیا تھا۔اسی وجہ سے حضرت حذیفہ کو ”صَاحِبُ سِيَّ رَسُولِ اللَّهِ عو الله في المُنَافِقِینَ“ یعنی ” منافقوں کے بارہ میں رسول اللہ صلی علی کرم کا راز دان کہا جاتا تھا۔ابن کثیر غزوہ تبوک و اسد الغابہ ذکر حضرت حذیفہ بن الیمان) ارادہ قتل رکھنے والے ان منافقوں کو بھی آپ نے معاف فرما دیا اور مدینے جاکر بھی باوجود اس کے کہ آپ کو ان کا معین طور پر علم تھا، ان پر کسی قسم کی تعزیزی کارروائی نہیں فرمائی۔(۶) ابو عامر راہب : ނ ابھی غزوہ تبوک اور مسجد ضرار کے سلسلے میں ابو عامر راہب کا ذکر گزرا ہے۔یہ قبیلہ خزرج کا ایک فرد تھا جو در حقیقت عیسائی تھا نہ یہودی۔لیکن یہود و نصاری کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتا تھا اور ان کے وظائف وغیرہ کا بھی ماہر تھا۔اسی وجہ سے یہ ابو عامر راہب کے نام مشہور تھا۔جب رسول اللہ صلی الیم ملے سے ہجرت کر کے مدینے تشریف لائے تو یہ شخص اپنے حسد کی بنا پر آپ کو برداشت نہ کر سکا۔لہذ ا سکے جا آباد ہوا اور قریش مکہ کو آپ کے خلاف ابھارتا رہا اور اسلام کے خلاف ان کے ساتھ جنگوں میں بھی شامل ہو تا رہا۔فتح مکہ کے بعد جب اس کا وہاں رہنا بھی مشکل ہوا تو اپنے مقاصد پورے کرنے کے لئے اس نے یہ ترکیب کی کہ اپنا نام اور حلیہ و ہیئت بدل کر مدینے کے قریب قبا میں سکونت اختیار کر لی۔کئی سال مدینے کے لوگوں سے دور رہنے نیز حلیہ تبدیل کر لینے کی وجہ سے لوگ اسے پہچان نہ سکے کہ در حقیقت وہ کون ہے۔اس نے قبا میں آکر مدینے کے منافقوں سے تعلقات پیدا کئے۔منافقوں کے گروہ میں سے بھی اسے صرف وہی چند لوگ جانتے تھے جن کے ساتھ مل کر وہ اپنے مذموم مقاصد پورے کرنا