توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 364
توہین رسالت کی سزا وو 364 } قتل نہیں ہے یہودیوں کی اس انتہائی گندی جسارت پر آپ کو اس قدر تکلیف تھی کہ آپ دعا پر دعا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے اس گند کے دور کرنے کی استدعا کرتے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرشتوں کے ذریعے اس یہودی کے مبینہ ذریعہ و آلات جادو کی اطلاع عطا فرمائی۔اس کی تفصیل کا ذکر کرتے ہوئے حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے آپ سے فرمایا:۔۔۔۔۔۔اے عائشہ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتادی ہے جو میں نے اس سے پوچھی تھی ؟ میں نے عرض کی: ” یارسول اللہ ! وہ کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا (رویا میں ) میرے پاس دو آدمی آئے۔ان میں سے ایک میرے سر کی طرف بیٹھ گیا اور دوسرا پاؤں کی طرف بیٹھ گیا۔پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا اس شخص کو کیا تکلیف ہے ؟ دوسرے شخص نے (فتنہ پردازوں کے پروپیگنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) جواب دیا کہ یہ وہی ہے جسے سحر کیا گیا ہے۔اس پر پہلے آدمی نے پوچھا اسے کس نے سحر کیا ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا کہ لبید بن اعصم یہودی نے سحر کیا ہے جو بنی زریق کا حلیف ہے۔اس پر پہلے شخص نے پھر سوال کیا کس چیز کے ذریعہ سحر کیا گیا ہے ؟ دوسرے نے کہا۔ایک کنگھی میں سر کے بالوں کی گر ہیں باندھی گئی ہیں اور پھر اسے کھجور کی ایک خشک شاخ میں لپیٹ کر رکھا گیا ہے۔پوچھنے والے نے سوال کیا یہ کنگھی وغیرہ کہاں رکھی ہے؟ دوسرے نے جواب دیا وہ ذروان کے کنوئیں میں رکھی ہے۔اس خواب کے بعد آپ آپنے بعض صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر تشریف لے گئے اور اس کا معائنہ فرمایا۔اس پر کھجوروں کے کچھ درخت تھے۔پھر آپ حضرت عائشہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: "عائشہ! میں اسے دیکھ آیا ہوں۔اس کنوئیں کا پانی مہندی کے پانی کی طرح سرخی مائل تھا اور اس کے کھجور کے درخت تھوہر کے درختوں کی طرح مکر وہ نظر آتے تھے۔“ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : ” میں نے عرض کی کہ آپ نے اس کنگھی وغیرہ کو باہر نکلوا