توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 332 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 332

توہین رسالت کی سزا 332 } قتل نہیں ہے ایک سفر میں آپ کے ایک ساتھی نے چڑیا کے بچے پکڑ لئے۔وہ چڑیا حضور صلی اللہ نام کے پاس آکر بیقراری سے پھڑ پھڑانے لگی۔آپ نے بے تاب ہو کر فرمایا : ” اس چڑیا کو اس کے بچوں کے ذریعے کس نے دکھ پہنچایا ہے ؟ جاؤ اور اسے اس کے بچے واپس لوٹاؤ۔( ابو داؤ د کتاب الجہاد باب کراہیۃ حرق العدو بالنار ) ایک صحابی بیان کرتے ہیں : ”ایک دفعہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی الی یم نے چیونٹیوں کابل دیکھا جس پر ہم نے آگ جلائی تھی۔آپ نے فرمایا: ”کس نے ایسا کیا ہے ؟“ ہم میں سے بعض نے بتایا کہ انہوں نے ایسا کیا ہے تو آپ نے فرمایا: ” سوائے آگ کے رب کے کسی کے لئے اللہ کا عذاب دینا جائز نہیں۔“ (ابو داؤد کتاب الجہاد باب کراہیۃ حرق العدو بالنار) آپ کی یہ بھی تعلیم تھی کہ جانور کو تیز دھار چھری سے ذبح کرو تا کہ اسے زیادہ تکلیف نہ ہو۔(مسلم کتاب الصيد والذبائح باب الامر باحسان بالذبح و ابو داؤد کتاب الضحايا باب فی النھی ان تصبر البہائم والرفق بالذبحة) یہانتک کہ جانوروں کے جذبات کا خیال رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے بھی فرمایا کہ جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کرو۔(ابن ماجہ ابواب الذبائح باب اذاذ بحتم فاحسنوا الذبح) یه درد مند پاک اور گداز دل ہے محمد رسول اللہ صلی علی یم کا جو کسی جانور کی تکلیف پر بھی تڑپ اٹھتا ہے اور اس کے جذبات اور درد کو اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔جو انسان کو ذرا ذراسی تکلیف سے بچانے پر بھی تعلیم دیتا ہے اور ایسا کرنے والوں کو دعائیں دیتا ہے۔حتی کہ راستے سے معمولی سی شاخ جو کسی کی تکلیف کا موجب تھی، اپنے پیارے رب کے حضور اسے ہٹانے والے کے لئے مغفرت کی التجائیں کرتا ہے۔(بخاری کتاب المظالم و الغضب باب من اخذ العضن ومايؤذى۔۔۔۔۔) ایسے