توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 331
توہین رسالت کی سزا { 331 ) قتل نہیں ہے فرمایا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی علی یم اور آپ کے ساتھی ایسا انتقام لیتے تھے جو اللہ تعالیٰ کی اغراض کے لئے اس کی مدد کے ساتھ منسلک ہوتا تھا۔آپ نے اس کا مظاہرہ قرآنی حکم ” فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَات“ (کہ نیک کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو) کے تحت یہ کیا کہ نیک، مثبت اور تعمیری کام کو آگے بڑھایا۔انسان کو انفرادی طور پر اور معاشرے کو مجموعی طور پر بُرے، منفی اور تخریبی کاموں سے بچانے کی سعی فرمائی۔بُرائی کا اچھائی سے ، بدی کا نیکی سے اور جبر و ظلم کا عفو سے انتقام لیا۔انتقام کا یہ خوبصورت اسلوب تھا جو آپ نے اختیار فرمایا۔انتقام کی یہ ادائیں تھیں جو آپ نے پیش فرمائیں اور اپنے پیروکاروں کو سکھائیں۔یہ انتقام محمدی ہے جس کا ذکر حضرت عائشہ نے فرمایا ہے۔اس میں کسی خون خرابے اور ظلم و جبر کا شائبہ تک نہ تھا بلکہ وہ عفو و در گز اور لطف و احسان سے لبریز تھا۔شفقت على خلق الله : آپ رحمۃ للعالمین تھے۔آپ کا دامن عفو و کرم اور سایہ کر حمت صرف انسانوں پر ہی وسیع نہیں تھا۔وہ تمام مخلوقات پر حاوی تھا۔چنانچہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی کی ایک انصاری علی کے باغ میں تھے کہ ایک اونٹ آپ کو دیکھ کر بلبلانے لگا۔اس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔آپ اس کے پاس تشریف لے گئے۔اس کے سر اور گردن پر ہاتھ پھیرا تو وہ پر سکون ہو گیا۔آپ نے پوچھا: ”یہ کس کا اونٹ ہے ؟“ ایک انصاری نوجوان نے عرض کی : ” یہ اس کا اونٹ ہے۔“ آپ نے فرمایا: ”اس جانور کے بارے میں تم اللہ کا تقوی کیوں اختیار نہیں کرتے جس کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے ؟ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھو کار کھتے ہو اور کام بھی زیادہ لیتے ہو۔“ (ابو داؤد کتاب الجہاد باب مایو مر بہ من القيام على الدواب والبهائم )