توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 258
توہین رسالت کی سزا ( 258 ) قتل نہیں ہے اس واقعے میں حضرت عائشہ شکار و عمل اور یہودی کو جواب دینا بتا تا ہے کہ اس کی یہ بد دعا گالی سے بھی بدتر، بد اثر اور زیادہ چھن رکھتی تھی کہ حضرت عائشہ جیسی متحمل، بردبار اور متوازن عورت بھی تڑپ اٹھی اور رد عمل ظاہر کرنے لگی۔ایک شخص کی ایسی بد حرکت کو ایسی گالی قرار نہ دینا جس سے "الصارم۔۔۔۔۔۔کا مزعومہ عہد نہیں ٹوٹتا، عمد اسچائی چھپانے کے برابر ہے۔بغض و عناد میں لیٹی ہوئی اس شخص کی بد دعا خو درسول اللہ صلی الیم نے بھی شدت سے محسوس کی تھی۔جس کے لئے آپ نے فوراً اسی پر شدت رو عمل کے طور پر اپنے ان طبعی جذبات رحمت کو پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ نرمی اختیار کرنا ہر دوسرے جذبے سے بہتر ہے کیونکہ اللہ تعالی خود حلیم و بردبار ہے وہ نرمی کو پسند فرماتا ہے۔علاوہ ازیں اسی مذکورہ بالا عادت یہود کے تسلسل میں حضرت عبد اللہ بن عمر کی ایک روایت ہے جو شاتم رسول کے سزا کے فلسفہ پر تفصیلی روشنی مہیا کرتی ہے۔یہ روایت تفسیر در منثور میں مسند احمد اور طبرانی وغیرہ کتب کے حوالہ سے زیر آیت " وَإِذَا جَاؤُوكَ حَيَوكَ بِمَا لَمْ يُحَيَّكَ بِه الله (المجادلہ: 9) درج ہے۔در منثور میں اس کی سند کو محقق کے حوالہ سے حسن قرار عليه دیا گیا ہے۔چنانچہ لکھا ہے ” عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا يَقُولُونَ لِرَسُوْلِ اللَّهِ على الله سَامٌ عَلَيْكَ يُرِيدُونَ بِذَلِكَ شَتْمَهُ، ثُمَّ يَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ: لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ - فَنَزَلَتْ هذِهِ الْآيَةُ : " وَإِذَا جَاؤُوكَ حَيَوكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ الله (الدر المنثور ، لامام السیوطی مطبوعہ مرکز ہجر والدراسات العربية والاسلامیة- تفسیر سورۃ المجادلہ ) کہ یہودی رسول اللہ صلی علیم کی پاس آتے تو آپ کو ”سَامٌ عَلَيْكَ “ کہتے۔یعنی آپ پر موت آئے۔اس سے ان کا ارادہ آپ پر ختم ہو تا تھا۔پھر اپنے