توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 259 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 259

توہین رسالت کی سزا ( 259 ) قتل نہیں ہے آپ سے کہتے (یا آپس میں بات کرتے) کہ (اگر یہ سچا نبی ہے تو) جو ہم کہتے ہیں اس کی وجہ سے اللہ ہمیں عذاب میں کیوں مبتلا نہیں کرتا۔تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔” أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِيْنَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَيَتَنَاجَوْنَ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَإِذَا جَاؤُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيْكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِي أَنفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ “ (المجادلہ : 9) ترجمہ : کیا تو نے ان کی طرف نظر نہیں دوڑائی جنہیں خفیہ مشوروں سے منع کیا گیا مگر وہ پھر وہی کچھ کرنے لگے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا؟ اور وہ گناہ ، سرکشی اور رسول کی نافرمانی کے متعلق باہم خفیہ مشورے کرتے ہیں۔جب وہ تیرے پاس آتے ہیں تو وہ اس طریق پر تجھ سے خیر سگالی کا اظہار کرتے ہیں جس طریق پر اللہ نے تجھ پر سلام نہیں بھیجا اور وہ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتاجو ہم کہتے ہیں ، ان سے نپٹنے کو جہنم کافی ہو گی۔وہ اس میں داخل ہوں گے۔پس کیا ہی بر اٹھکانا ہے۔66 تفسیر در منثور میں مذکور اس روایت کو آیت قرآنیہ کی تصدیق حاصل ہے کہ وہ تجھ پر شتم کے بعد اس کی سزا کا مطالبہ کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس دنیا میں کوئی سزا مقرر نہیں فرمائی۔رسول اللہ صلی الی یم نے بھی کسی کو اس وجہ سے سزا نہیں دی۔ہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے قرآن کریم میں جو سزا مقرر فرمائی وہ اخروی زندگی میں جہنم کی آگ ہے جس میں وہ جلیں گے۔اللہ تعالیٰ جب دنیا میں اپنا نبی اور رسول بھیجتا ہے تو وہ زمین پر اس کا نمائندہ ہوتا ہے۔وہ اس کے لئے سب انسانوں سے زیادہ غیرت رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے اس کی تکذیب و تکفیر یعنی اسے جھوٹا کہنا اور اس کی سچائی کا انکار کرنا اس کی سب سے بڑی توہین ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرسل دنیا میں اپنے وقت کا سب سے سچا انسان ہوتا ہے۔اسے