توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 225
توہین رسالت کی سزا { 225 ) قتل نہیں ہے بنیادی اور حقیقی وجہ یہی تھی کہ اسلامی شریعت میں شاتم رسول کو قتل کرنے کا عقیدہ موجود ہی نہیں ہے۔یہاں یہ بھی غور طلب بات ہے کہ کتے میں جن دو تین افراد کو قتل کیا گیا تھا انہیں بھی کتاب "الصارم۔۔۔۔۔۔کے بیان کردہ اسی وراثت والے اصول سے منسلک اصول کہ ” اسی طرح اس سے ان گالیوں کا بھی محاسبہ نہیں کیا جائے گا جو اس سے دورِ جاہلیت میں صادر ہوئیں، بنا بریں ان لوگوں کو معاف کر دیا جائے گا۔“ کے تحت معاف کیوں نہ کیا گیا۔الصارم۔۔۔۔۔کے اس قانون کا جس مقام پر اطلاق ہوا ہے ، یہ مقتولین بھی تو وہیں پر تھے مگر ان پر اس اصول کا اطلاق کر کے ان کی جان بخشی نہیں کی گئی۔اس سے ثابت ہو تا ہے کہ کتاب 'الصارم۔۔۔۔۔۔میں تا پیش کی گئی دلیل کوئی دلیل نہیں ہے، ایک خود ساختہ جواز ہے جس کی بنیاد محض ابہام پر ہے یا خود تضادی پر۔اگر یہ ایک سمجیدہ دلیل تھی تو ان تین مقتولوں کے معاملے کو حل کیا جانا چاہئے تھا۔اس کے بعد مکرر وراثت والے مسئلے کی جانب لوٹتے ہیں۔چنانچہ الصارم۔۔۔۔۔میں لکھا ہے اگر چہ یہ حکم ابو طالب کی وفات کے بعد نازل ہوا، چونکہ ترکہ اس وقت تک تقسیم نہیں ہوا تھا اس لئے اسے اسلامی احکام کے مطابق تقسیم کیا جا سکتا تھا۔لہذار سول کریم صلی اللہ ہم نے واضح کیا کہ جعفر اور علی کو ابو طالب کی وراثت سے حصہ طلب کرنے کا کوئی حق نہیں۔اگر چہ جائیداد موجو د ہو اور جب ان سے فی سبیل اللہ لی گئی تو اب وہ اسے کیونکر واپس لے سکتے ہیں۔“ ย اس بات کو پر کھنے کا ایک زاویہ تاریخوں کا حساب بھی ہے۔اس مسئلے کا مکمل اور تفصیلی منظر یہ ہے کہ حضرت جعفر " 5 نبوی میں حبشہ ہجرت کر گئے تھے۔ابو طالب کی وفات اس کے پانچ سال بعد 10 نبوی میں ہوئی۔ابو طالب کی جائیداد تقسیم ہوئی یا نہیں ہوئی، اس کا ہمارے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔لیکن ابو طالب کی وفات کے وقت حضرت علی وہیں گے میں مقیم تھے