توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 210
توہین رسالت کی سزا { 210 } قتل نہیں ہے ہو سکتا ہے کہ توہین رسول کی سزا قتل ہے۔اس کی معافی تو بذاتِ خود اس بات کی ناقابل تردید دلیل ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل نہیں ہے۔الغرض ان وجوہات کی بناء پر یہی ثابت ہوتا ہے کہ کتاب ' الصارم۔۔۔۔۔کی یہ بات صحابہ شاتم رسول کو قتل کر دیتے تھے خواہ وہ ان کا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوتا تھا۔“ قطعی طور پر غلط اور بے بنیاد ہے۔شاتم جنوں کا قتل ! مذکورہ بالا عنوان کے بعد عنوان " مُؤْمِنُو الْجِنَّ يَقْتُلُ السَّابَ مِنْ كُفَّارِهِمْ “ ویسے ہی مضحکہ خیز ہے جو کتاب "الصارم۔۔۔۔۔۔۔کے استناد کو اور بد نما کر دیتا ہے۔عنوان یہ ہے کہ ” کافر جنوں میں سے جو رسول کریم صلی کم کو گالی دیتا تھا مومن جن اسے قتل کر دیتے تھے۔“ الصارم۔۔۔۔۔صفحه 106,105) اس عنوان سے انسان اندازہ کر سکتا ہے کہ کس حد تک نامعقول اور غیر مستند وضعی مواد اس کتاب میں جمع کیا گیا ہے۔یہ واقعہ ایک مضحکہ خیز گپ کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔جنوں اور بھوتوں جیسی تصوراتی غیر مرئی مخلوق کے قصوں پر مبنی ایسی مبینہ گپ سے شریعت کا کوئی مسئلہ کبھی حل ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے۔کجا یہ کہ اسے مذہبی عقائد کی بنیاد قرار دیا جائے۔دیو مالائی کہانیاں شریعت کے مسائل کا حل ہو سکتی ہیں نہ بنیاد۔