توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 209
توہین رسالت کی سزا { 209} قتل نہیں ہے وغیرہ، آپ کی گستاخی اور تذلیل کی کتنی اور کیسی کیسی کہانیاں ہیں۔مگر قربان جائیں اس رحمتِ مجسم علا الم پر کہ نہ صرف اپنے ساتھیوں کو بلکہ پہاڑوں پر مامور فرشتوں کو بھی یہ اجازت نہیں دیتے کہ وہ کسی کی جان تلف کریں۔آنحضرت لیلی لیلی کیم کی ساری زندگی حضرت عائشہ کی بیان فرمودہ اس حقیقت افروز گواہی پر شاہد ناطق ہے کہ " آپ نے کبھی اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام نہیں لیا۔(مسلم کتاب الفضائل) یعنی آپ نے کبھی کسی اور کو بھی آپ کی شان میں کسی زیادتی یا توہین کرنے والے کی جان لینے کی اجازت نہیں دی۔جیسا کہ پہلے ذکر گزر چکا ہے کہ بسا اوقات بعض صحابہ نے آپ سے کسی گستاخ کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی مگر ہر موقع پر آپ نے ان کی درخواست رڈ کر دی۔آپ نے جن چند لوگوں کے قتل کا ارشاد فرمایاوہ گستاخی یا توہین وسبّ کرنے والے نہ تھے بلکہ ان کے جرم اور تھے جو قومی یا انسانی حقوق کے تحفظ کے لحاظ سے سنگین تھے۔انہیں ان جرموں کی سزادی گئی تھی۔توہین و تنقیص کی وجہ سے سزا نہیں دی گئی تھی۔پس خود تراشیدہ اور بے سروپا، گمنام مجموعوں سے روایات لے کر نبی رحمت کی طرف قتل و خون منسوب کرنا آپ سے انتہائی زیادتی ہی نہیں دشمنی بھی ہے۔اس عنوان کے تحت دو تین مزید وہ روایات بھی درج کی گئی ہیں جو روایات والے باب میں زیر بحث آکر رڈ کی جاچکی ہیں۔یہاں ان کے تکرار کی ضرورت نہیں۔كتاب الصارم۔۔۔۔۔میں اس جگہ ابن ابی سرح کا قصہ بھی اختصار کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے کا ذکر یہاں برعکس دلیل پیش کر رہا ہے۔کیونکہ اسے تو قتل نہیں کیا گیا تھا۔بلکہ اسے معافی مل گئی تھی۔لہذا اس کا یہاں اندراج عبث اور بے مقصد ہے۔جسے خو در سول اللہ صلی علیم نے معاف کر دیا اور اسے قتل ہی نہیں کیا گیا تو اس سے ثابت کیسے