توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 4
توہین رسالت کی سزا ( 4 ) } قتل نہیں ہے نہیں دی کہ وہ کسی کے عقائد کی بناء پر کسی کو سزا دے۔اس کی ایک مثال بھی قرآن کریم میں موجود نہیں ہے۔باقی جہانتک بعض مخصوص بد اعمال، جرائم کا یا معاملات کا تعلق ہے، تو شریعت نے ان پر مخصوص سزائیں مقرر فرمائی ہیں۔جن کی تخصیص و تعیین خودر سول الله صلى ال عالم نے فرما دی ہے۔جہانتک رسول اللہ صلی علیکم کی توہین و تنقیص یا اذیت پر کسی قسم کی سزا کا تعلق ہے تو شریعت میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔اس لئے شریعت نے کسی فرد یا افراد کے لئے یہ جائز نہیں کیا کہ وہ کسی کو از خود عذاب دے اور قتل کرے۔اس اصول کو رسول اللہ صلی الیم نے بڑی وضاحت اور تاکید کے ساتھ اور سخت وعید شدید کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِيْنَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا۔“ ( مسلم كتاب البر و الفضلة والآداب باب الوعيد الشديد۔۔۔کہ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو عذاب دے گا جو اس دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔یہاں امام مسلم نے آنحضرت صلی لیلی کیم کے اس ارشاد پر ” الْوَعِيْدُ الشَّدِيدُ “ کا عنوان باندھا ہے۔یعنی جو کسی کو اس دنیا میں عذاب دیتے ہیں ان کے لئے یہ ایک شدید خوف دلانے والی بات ہے۔اس انذار سے بغیر کسی ابہام کے واضح ہے کہ اس دنیا میں کسی کو عذاب دینا ممنوع ہے اور اس نہی کی خلاف ورزی کر کے خود اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مورد بننے کی واضح جسارت ہے۔اسلام نے ملکی اور ریاستی قوانین تفصیل کے ساتھ وضع فرمائے ہیں۔ان کی خلاف ورزی پر مخصوص سزائیں بھی تجویز فرمائی ہیں اور ان کا نفاذ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری قرار دیا ہے۔پس ان سے تجاوز کر کے اور آگے بڑھ کر قانون اپنے ہاتھ میں لینا اسلام نے کسی کے لئے جائز قرار نہیں دیا۔انتہائی افسوسناک بات ہے کہ انسان کو تکالیف اور عذابوں سے بچانے والا اور جب سے دنیا بنی ہے انسانی خون کا سب سے بڑا محافظ جو قدم قدم پر انسان کو انسان ہی کے ظلم سے محفوظ