توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 3 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 3

توہین رسالت کی سزا ( 3 )- قتل نہیں ہے یہ آیت ہے جو اول طور پر پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی الی یکم کو اذیت دینے والوں پر عذاب الیم کی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔اس سے وہ بچ نہیں سکتے۔ان کا موقف یہ ہے کہ اس آیت میں عذاب الیم سے مراد یہ ہے کہ اذیت دینے والے جس کسی کے بھی ہاتھ لگیں وہ انہیں قتل کر دے۔یعنی قتل کرنے والا خود ان پر عذاب الیم بن کر ٹوٹے۔حالانکہ اس آیت سے یا قرآن کریم میں کسی بھی مقام پر مذکور الفاظ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ " سے یہ نتیجہ کسی طرح بھی اخذ نہیں ہو تا کہ کسی شاتم کی گردن مار نا کسی فرد پر دینی فرض ہے۔ظاہر ہے کہ اس آیت میں رسول اللہ صلی للی کم کو ایذاء پہنچانے کا ذکر تو واضح طور پر موجود ہے اور ایسا کرنے والوں کو دردناک عذاب کی وعید بھی سنائی گئی ہے۔مگر اس آیت میں یا اس کے سیاق و سباق میں دنیا میں اس ایذاء دہی کی سزا کے کسی قانون کا ذکر نہیں ہے۔نہ ہی شائم کو قتل کرنے کا اشارہ تک موجود ہے۔پھر یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی کم نے بھی ایذاء دینے والوں کے لئے اس آیت کے تحت کوئی سزا تجویز نہیں فرمائی۔نہ ہی بعد میں خلفائے راشدین یا دیگر صحابہ نے انہیں کوئی سزا دی۔تو یہ آیت پیش کر کے یہ کہنا کہ اس سے شاتم رسول کے قتل کا ایسا قانون وضع ہوتا ہے کہ ہر کوئی آزاد ہے کہ کوئی کسی بھی شخص کو شاتم قرار دے کر اسے قتل کر دے، درست نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کی خبریں قرآن کریم میں کثرت کے ساتھ تحریر ہیں۔خاص طور پر عذاب الیم کی وعید بھی قرآن کریم میں متعد د گناہوں پر بیبیوں کی تعداد میں بیان ہوئی ہے۔چنانچہ تمام کجیاں خواہ وہ عقائد سے تعلق رکھتی ہوں یا اعمال سے ، اللہ تعالیٰ کے حضور ناپسندیدہ ہیں اور وہ ان سب کجیوں کے ذکر کے بعد کسی نہ کسی عذاب کی خبر دیتا ہے۔لیکن ایک بات ہر جگہ بالکل واضح اور فیصلہ شدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کسی انسان کو کوئی اجازت