توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 108
توہین رسالت کی سزا { 108 } قتل نہیں ہے الْمَعْرُوفِ کہ اگر وہ اُس (امیر کے حکم کو مان کر آگ ) میں اتر جاتے تو اس سے قیامت تک نہ نکل سکتے کیونکہ اطاعت صرف معروف میں ہوتی ہے۔ایک اور روایت یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی ﷺ نے فرمایا: ” لا طَاعَةً فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ تاريخ المیں بعث علقمہ بن مجزز الى الحبشی) کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں اطاعت جائز نہیں ،اطاعت معروف میں لازمی ہے۔اس روایت سے اظہر من الشمس ہے کہ آگ میں کسی کو جلانا یا خود سوزی معصیت الہی ہے۔اگر حضرت خالد نے واقعہ ایسا کیا تھا تو اس فعل پر حضرت ابو بکر کا حضرت خالد کو تنبیہہ نہ کرنا آپ کو ملزم ثابت کرنا ہے۔چونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ خلیفۃ الرسول ملزم ہو لہذا یہ قصہ قابل قبول نہیں ہے۔پس یہ زیر بحث روایت لازماً وضعی، جعلی اور جھوٹی ہے۔ایسی روایت پر شتم رسول کی سزا قتل کے عقیدہ کو قائم کرنا ایک جھوٹی جسارت ہے۔اس روایت کے جھوٹا ہونے کا ایک قطعی ثبوت اور بہت بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ یہ روایت مصنف عبد الرزاق سے لی گئی ہے۔مصنف عبد الرزاق کی حیثیت کیا تھی ، درج ذیل شہادتوں کو ملاحظہ فرمائیں۔ان کے مطالعے سے آپ قطعی نتیجے پر پہنچیں گے کہ ایسی روایت تراش کر اسلام، رسول اللہ صلی علیکم اور خلافت راشدہ کے مخفی دشمنوں نے یا جھوٹے دوستوں نے حضرت ابو بکر کی پاک ذات پر ظلم کیا ہے۔عبد الرزاق: ان کا پورا نام ابو بکر عبد الرزاق بن ہمام الصنعانی ' ہے جو 126 ہجری میں ' پیدا ہوئے اور 211ھ میں وفات پائی۔ان کا تیار کردہ مجموعہ کروایات مصنف عبد الرزاق کے نام سے مشہور ہے۔متعدد روایتیں عبد الرزاق کی اس کتاب سے لی گئی ہیں، جن پر شاتم رسول کی