توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 102
توہین رسالت کی سزا { 102 قتل نہیں ہے یا ایک فعل بھی ایسا نہیں ہے جس میں ایک ذرہ بھر بھی ظلم کا شائبہ ہو۔لہذا قتل شاتم اور قتل مرتد جیسے ظالمانہ عقائد کا اسلام کے عقائد سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔مرتدین اور ان کا قتل !! اگر اُس دور اور زمانے کے حالات کا تفصیلی مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ لفظ مرتد یا ارتداد عام استعمال کے لحاظ سے ان لوگوں پر بولا جاتارہا ہے جو مرتد ہو کر بغاوت پر اتر آئے تھے۔جس طرح آنحضرت صلی اللہ کی کی زندگی کے آخری ایام میں اور آپ کے وصال کے بعد بعض قبائل اور سرداروں نے ایسا ارتداد اختیار کیا جو دراصل مدینے کی حکومت کے خلاف کھلی کھلی بغاوت کا اعلان تھا۔اسود عنسی، مسیلمہ کذاب اور طلیحہ الاسدی اور دیگر کئی ایسے لوگ تھے جنہوں نے اعلانِ بغاوت کیا تو چونکہ یہ بنیادی طور پر دین سے بھی ارتداد تھا اس لئے ان کے لئے ارتداد یا مرتد کا لفظ عام استعمال کے طور پر جاری ہو گیا۔مگر ان سے جنگ اور قتال کی حقیقی وجہ ان کی بغاوت تھی نہ کہ ان کا ارتداد۔چنانچہ جو شخص صرف دین کو چھوڑتا ہے اور کسی قسم کی باغیانہ ، محاربانہ یا فساد و تفرقہ والی کوئی کارروائی نہیں کرتا اسے قتل کرنے کا کہیں حکم نہیں ہے۔تاریخ اسلام میں رسول اللہ صلی یکم یاخلفائے راشدین کا تائید یافتہ یا تسلیم شدہ ایسا کوئی واقعہ موجود نہیں ہے کہ جس میں کسی کو محض اس وجہ سے قتل کیا گیا تھا کہ اس نے دین اسلام چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔دین بدلنا: یہاں اس روایت کا آخری حصہ " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " کہ جو اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو، قابل غور ہے۔اس کا واضح اور آزادانہ مطلب یہ ہے کہ صرف مسلمان ہی نہیں، کوئی بھی اپنا دین بدلے، خواہ وہ عیسائی ہو ، یہودی ہو ، مجوسی ہو یا کسی اور مذہب کا پیروکار ، تو وہ اس اصول کے تحت قتل ہونا چاہئے۔چنانچہ وہ لوگ جو اپنا دین بدل کر مسلمان ہوئے ، انہیں بھی قتل کر دینا چاہئے تھا۔مگر عملاً اور واقعہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔پس اس منظر میں یہ بے قید اور بے