توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 101 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 101

توہین رسالت کی سزا { 101 } قتل نہیں ہے نہیں۔پھر انہوں نے آپ پر کفر کا فتوی صادر کر کے آپ سے جنگ کی اور ہزاروں مسلمانوں کا خون کیا۔یہ خارجی تھے۔) وو ان مذکورہ بالا کتابوں میں عکرمہ کے قطعی طور پر غیر ثقہ ہونے، جھوٹا اور مردود ہونے اور روایات وضع کرنے جیسی اور بہت سی تفصیلات ہیں۔اسی طرح علامہ ابو جعفر محمد بن عمر و العقیلی المکی کی کتاب " الضعفاء الكبير “ مطبوعہ 1984ء۔دارالمکتبۃ العلمیہ بیروت ، میں بھی عکرمہ کے بارے میں کافی مواد موجود ہے جو اس کے پرلے درجے کے جھوٹے ہونے کے قطعی ثبوت فراہم کرتا ہے۔عمروا اگر حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عکرمہ کا فتنہ ذوالخویصرہ والے فتنوں کا ایک شاخسانہ ہے جس کی نشاندہی رسول اللہ لی لی یم نے فرمائی تھی۔یہ فتنہ ایسا ہے کہ جس نے نعوذ باللہ نہ صرف آپ کی ذات کو ظالم ثابت کرنے میں اہم کر دار ادا کیا ہے بلکہ عالم اسلام میں تشدد پسندی اور دہشت گردی کے طوفان کھڑے کر دیئے ہیں۔جس خدشے کا اظہار رسول اللہ صلی کرم نے فرمایا تھا کہ لوگ باتیں کریں گے کہ محمد (صلی ) اپنے ساتھیوں کو قتل کرواتے ہیں، ان لوگوں نے یہ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ آپ یقینا اپنے ساتھیوں کو مروا دیتے تھے۔الغرض مذکورہ بالا اس تحقیق سے ان مصنفین کو توجہ دلانی مقصود ہے جو اندھا دھند ایک ایسے عقیدے کو رائج کرنے کی سعی میں مصروف ہیں جس کی تمامتر عمارت جھوٹ کی بنیاد پر استوار ہے۔کیونکہ اسلام ایک سچائی ہے۔اس کے سارے عقائد ازلی سچائی پر استوار ہیں اور رسول اللہ صل للہ نام کا ہر فعل اور ہر قول بھی انہی ابدی سچائیوں پر قائم ہے۔ان میں سے ایک قول