توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 100 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 100

توہین رسالت کی سزا { 100 } قتل نہیں ہے ا: ۲ وہیب بیان کرتے ہیں کہ یحی بن سعید الانصاری کہتے ہیں کہ عکرمہ کذاب تھا۔عبد اللہ بن الحارث بیان کرتے ہیں کہ میں علی بن عبد اللہ بن عباس کے ہاں گیا تو دیکھا کہ عکرمہ حضرت حسن کے دروازے کے سامنے باندھا ہوا ہے۔میں نے علی سے کہا: کچھ تو خدا کا خوف کرو۔انہوں نے فرمایا کہ یہ خبیث میرے والد پر جھوٹ بولتا ہے۔یعنی جھوٹی روایات ان کی طرف منسوب کرتا ہے۔:M الصلت ابو شعیب بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام محمد بن سیرین سے عکرمہ کے بارے میں دریافت کیا تو وہ کہنے لگے کہ۔۔۔۔۔۔وہ در حقیقت کذاب ہے۔ه: مطرف بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ امام مالک مکر مہ کے ذکر سے بھی کراہت کرتے تھے۔یعقوب الحضر می اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ عکرمہ مسجد کے دروزاے میں کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ اس میں موجو دسب کا فر ہیں۔وہ اباضیہ خیالات رکھتا تھا۔: ابن مدینی نے کہا ہے کہ وہ مجدہ حروری تھا۔(میزان الاعتدال في نفقد الرجال از امام شمس الدین ابو عبد اللہ الذہبی ایڈیشن 1963 ء الناشر دار المعرفية والنشر بیروت۔جلد 3۔عکرمہ مولی ابن عباس) (نجدہ، اباضیہ اور صفریہ وغیرہ ، عقائد کے جزوی فرقوں کے ساتھ خوارج کے فرقے ہیں۔مجدہ فرقہ 38ھ میں ظاہر ہوا۔اس کا بانی مسجد بن عامر حنفی تھا۔اباضیہ فرقہ کی 58ھ میں عبد اللہ بن اباض التمیمی نے بنیاد رکھی۔فرقہ صفریہ کا بانی مخلد بن کہداد تھا۔جو بر بری قبائل سے تھا۔یہاں ان کے جزوی عقائد کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ جنگ صفین میں امیر معاویہ کی فوجوں کے خلاف جو لوگ حضرت علی کے ہمراہ تھے ، ان میں سے ایک گروہ تحکیم کے واقعہ کے بعد حضرت علی ہو یہ کہہ کر آپ سے الگ ہو گیا کہ آپ حق پر