توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 70
توہین رسالت کی سزا { 70 ) قتل نہیں ہے قدر واضح اختلافات اس قصہ کے وضعی اور جعلی ہونے پر کافی سے زیادہ مواد اور ثبوت مہیا کرتے ہیں۔چنانچہ ایسے اختلافات و تضادات سے پر واقعات کو کسی عقیدے یا قانون کی بنیاد کے طور پر پیش کرنا نہ صرف انصاف کا خون کرنا ہے بلکہ نعوذ باللہ ، رسول اللہ صلی علیم کے مقدس، رحیم و کریم ، حسین اور پاک چہرہ کو داغدار کرنے کی جسارت ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ اول تو عصماء کے قتل کا واقعہ روایتاً یا درایتاً درست ہی ثابت نہیں ہو تا۔لیکن بالفرض اگر اسے درست سمجھا بھی جائے تو یہ قتل کسی مسلمان کا انفرادی فعل تھا جو کسی انگیخت کے باعث اُس سے ذاتی طور پر سر زد ہوا تھا۔شتم و توہین رسول سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔نیز یہ کہ جیسا کہ ابن سعد کے بیان سے یقینی طور پر ثابت ہے، آنحضرت صلی الی یم نے اُن کے متعلق حکم نہیں دیا تھا۔( ابن سعد ، سریہ عمیر بن عدی ) *****