توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 63 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 63

توہین رسالت کی سزا { 63 ) قتل نہیں ہے دروازے کے پاس پہنچے اور اس کے قریب اس طرح چادر لپیٹ کر بیٹھ گئے جیسے کوئی شخص کسی حاجت کے لئے بیٹھا ہو۔جب قلعے کا دروازہ بند کرنے والا شخص دروازے پر آیا تو اس نے عبد الله کی طرف دیکھ کر آواز دی : ” اے شخص! میں قلعے کا دروازہ بند کرنے لگا ہوں تم نے اندر آنا ہو تو جلد آ جاؤ۔“عبد اللہ چادر میں لیٹے لپٹائے جلدی سے دروازے کے اندر داخل ہو کر ایک طرف کو چھپ گئے۔دروازہ بند کرنے والا شخص دروازہ بند کر کے اور اُس کی کنجی ایک قریب کی کھونٹی سے لٹکا کر چلا گیا۔اس کے بعد عبد اللہ بن عتیک سکا اپنا بیان ہے کہ : ” میں اپنی جگہ سے نکلا اور سب سے پہلے میں نے قلعے کے دروازے کا تالا کھول دیا تاکہ ضرورت کے وقت جلدی اور آسانی کے ساتھ باہر نکلا جا سکے۔اس وقت ابو رافع ایک چوبارے میں تھا اور اس کے پاس بہت سے لوگ مجلس جمائے بیٹھے تھے۔جب یہ لوگ اُٹھ کر چلے گئے اور خاموشی ہو گئی تو میں ابو رافع کے مکان کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلا گیا۔میں نے یہ احتیاط کی کہ جو دروازہ میرے راستے میں آتا تھا اُسے میں آگے گزر کر اندر سے بند کر لیتا تھا۔جب میں ابو رافع کے کمرے میں پہنچا تو کمرہ بالکل تاریک تھا۔اُس وقت وہ چراغ بجھا کر سونے کی تیاری میں تھا۔میں نے آواز دے کر ابو رافع کو پکارا۔جس کے جواب میں اُس نے کہا۔کون ہے ؟ بس میں اس آواز کی سمت کا اندازہ کر کے اُس کی طرف لپکا اور تلوار کا ایک زور دار وار کیا مگر اندھیرا بہت تھا اور میں اُس وقت گھبرایا ہوا تھا۔اس لئے تلوار کا وار غلط پڑا اور ابو رافع چیخ مار کر چلا یا جس پر میں کمرے سے باہر نکل گیا۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے پھر کمرے کے اندر جا کر اپنی آواز کو بدلتے ہوئے پوچھا۔ابو رافع یہ شور کیسا ہو ا تھا ؟ اُس نے میری بدلی ہوئی آواز کو نہ پہنچانا اور کہا۔تیری ماں تجھے کھوئے مجھ پر ابھی ابھی کسی شخص نے تلوار کا وار کیا ہے۔میں یہ آواز سن کر پھر اُس کی طرف لپکا اور تلوار کا وار کیا۔اس دفعہ وار کاری پڑا مگر وہ مرا پھر بھی نہیں۔چنانچہ میں