توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 58
توہین رسالت کی سزا 58 } قتل نہیں ہے فَإِنَّ أَبِي وَ وَالِدَهُ وَ عِرْضِى لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وَقَاءُ کہ تو نے محمد (صلی ﷺ کی ہجو کی تو میں نے اس کا جواب دیا ہے۔اور اس کی جزاء اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔پس میر اباپ، دادا اور میری آبرو تم لوگوں سے ناموس محمد (صلی ) کے لئے ایک ڈھال ہے۔اگر ہجو یعنی توہین کی سزا قتل ہوتی تو آپ حضرت حسّان بن ثابت گو نہ فرماتے کہ اس کا جواب ہجو سے دو بلکہ کسی بہادر جنگجو صحابی کو بھیجتے کہ ہجو کرنے والے کی ہجو کا جواب تلوار سے دو۔آپ کی اس تعلیم سے جو آپ نے اس سلسلے میں حضرت حستان کو دی، واضح ہے کہ زبان کا جواب دینا ضروری ہو تو تلوار سے نہیں بلکہ زبان سے دینا ہے اور تلوار کے جواب کی ضرورت ہو تو تلوار سے دینا ہے۔بہر حال ابو سفیان کا ذکر چلا ہے تو یہ تو سب جانتے ہیں کہ یہ وہ شخص تھا جو رسول اللہ صلی ایم کی نہ صرف ہجو و توہین کرنے والا تھا بلکہ مدینے پر بھی مسلسل خوف و ہر اس طاری کرنے والا اور ان پر جنگیں مسلط کر کے کثیر تعداد میں صحابہ کی شہادتوں کا بھی ذمہ دار تھا۔وہ ایک مرتبہ مدینے میں آیا بھی تھا۔مگر اسے قتل نہیں کیا گیا۔اسے قتل نہ کرنے کی وجہ یہی تھی کہ اسلام میں ہجو و تو ہین اور ہتک رسول وغیرہ کبھی بھی قابل تعزیر نہیں ٹھہرائے گئے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی للی کم تو در گزر کرنے والے تھے۔مگر ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیرت دکھائے اور توہین کرنے والے کو قتل کر کے دم لے۔اگر ان کی اس بات کو درست سمجھا جائے تو آپ کے ارد گرد رہنے والے صحابہ نے ابوسفیان کے پہلو سے یہ ذمہ