توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 57
توہین رسالت کی سزا { 57 ) قتل نہیں ہے کم و بیش ایسا ہی معاملہ کعب بن زہیر بن ابی سلمی کے ساتھ ہوا۔جب اس کے بھائی بخجیر بن زہیر نے جو قبل ازیں مسلمان ہو چکا تھا، اسے اشعار میں مدینہ آنے اور معافی مانگنے کے پیغام بھیجے تو کعب کے دل کو ان اشعار کے جادو نے رام کر دیا تھا اور اسے رسول اللہ صلی الیکم کی خدمت میں حاضر ہو کر معافی طلب کرنے اور اسلام قبول کرنے پر مائل کر دیا تھا۔ابن زبعری اور کعب کے ساتھ شاعر ہبیرہ بن ابی وہب نے بھی ماضی میں جی بھر کے آنحضرت صلی للی کم کی ہجو کی تھی۔مستند کتب تاریخ سے ثابت ہے کہ آپ نے ان کے قتل کا کوئی اعلان نہیں فرمایا تھا۔یہ الگ بات ہے کہ یہ خود مکہ سے بھاگ گئے تھے کہ ان کو بھی کہیں قتل نہ کر دیا جائے۔(ابن ہشام ذکر کعب بن زہیر بعد الانصراف عن الطائف) ان واقعات سے ظاہر ہے کہ اگر توہین کی سزا قتل ہوتی تو یا تو بقول بعض فقہاء کے ان تینوں کی توبہ قبول نہ کی جاتی یا ان کو اسلام قبول کرنے سے قبل ہی قتل کر دیا جاتا۔الغرض عرب میں شاعری ایک طاقتور ذریعہ تھا جو ایک طرح سے دلوں پر حکومت کرتا تھا۔وہاں کے عام طریق کے مطابق ہجو یہ شاعری بھی فریقین کا معمول اور مروجہ دستور کا اہم حصہ تھی۔خصوصاً جنگوں اور لڑائیوں میں رزمیہ شعروں کے ساتھ ساتھ مخالف فریق کی ہجو 66 بھی انتہاء کی کی جاتی تھی۔چنانچہ جب مخالف سمت سے ایسا ہو تا تو رسول اللہ صلی لی کم بھی حضرت حسان کو مخاطب کر کے فرماتے : ” أَهْجُهُمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ “ ( بخاری کتاب بدء الخلق باب ذكر الملائكة ) کہ دشمنوں کی ہجو کر۔جبریل تیری مدد کرے۔یعنی یہ طریق دونوں طرف متوازی رائج تھا۔بلکہ مومنوں کی ہجو میں جبریل کی مدد بھی شامل ہوتی تھی۔چنانچہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت سردارِ قریش ابوسفیان بن حرب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں: هَجَوْتَ مُحَمَّدًا فَأَجَبْتُ عَنْهُ وَعِنْدَ اللَّهِ فِي ذَاكَ الْجَزَاءُ