توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 53 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 53

توہین رسالت کی سزا ( 53 ) قتل نہیں ہے مسلمانوں پر الزام قائم کیا ہو۔کیونکہ ان کے دل محسوس کرتے تھے کہ وہ اپنے مستحق انجام کو پہنچا ہے۔آپ نے یہود کے سامنے مذکورہ بالا وضاحت میں یہ بات بالکل بیان نہیں فرمائی کہ وہ آپ کی توہین بھی کیا کرتا تھا۔بلکہ آپ نے اس کا ذکر تک نہیں فرمایا۔یہ ایک قطعی شہادت ہے کہ آپ نے اپنی توہین کو موجب قتل قرار نہیں دیا۔یاد رکھنا چاہئے کہ کعب بن اشرف آنحضرت صلی الی ایم کے ساتھ باقاعدہ امن و امان کا معاہدہ کر چکا تھا اور مسلمانوں کے خلاف کاروائی کرنا تو در کنار ، اس نے تو اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ ہر بیرونی دشمن کے خلاف مسلمانوں کی امداد کرے گا اور مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے گا۔اُس نے اس معاہدے کی رُو سے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ جس رنگ میں مدینے میں جمہوری سلطنت کا قیام کیا گیا ہے اُس میں آنحضرت صلی للی کم صدر ہوں گے اور ہر قسم کے تنازعات وغیرہ میں آپ کا فیصلہ سب کے لئے واجب القبول ہو گا۔چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ اسی معاہدے کے ماتحت یہودی لوگ اپنے مقدمات وغیرہ آپ کی خدمت میں پیش کرتے تھے اور آپ ان میں فیصلے اور احکام جاری فرماتے تھے۔چنانچہ آپ نے زنا کے ایک مقدمے میں یہودی مرد اور اور یہودی عورت کو تورات کے حکم کے مطابق رجم کی سزا بھی سنوائی تھی۔( بخاری کتاب الحدود باب رجم فی البلاط ) اسی طرح ان کے اور بھی بہت سے تنازعات کا ذکر مستند روایات میں ملتا ہے جن کے فیصلے رسول اللہ صلی علی رام نے صادر فرمائے تھے۔پس یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ کعب نے تمام عہد و پیمان کو بالائے طاق رکھ کر مسلمانوں سے ، بلکہ حق یہ ہے کہ حکومت وقت سے غداری کی اور مدینہ میں فتنہ و فساد کا بیج بویا، ملک میں جنگ کی آگ مشتعل کرنے کی بھر پور اور جارحانہ کوشش کی، مسلمانوں کے خلاف قبائل عرب کو خطرناک طور پر اُبھارا، مسلمان عورتوں پر اپنے جوش دلانے والے اشعار میں تشبیب کہی اور آنحضرت علی ایم کے قتل کے منصوبے کئے۔نیز یہ