توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 325
توہین رسالت کی سزا ( 325 } قتل نہیں ہے مغفرت مانگے تب بھی اللہ ہر گز انہیں معاف نہیں کرے گا۔یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور اللہ بد کر دار لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔فرمایا: مجھے جب یہ اختیار دیا گیا ہے تو میں نے یہ پہلو اختیار کیا ہے کہ میں اس کے لئے مغفرت طلب کروں اور اگر مجھے یہ معلوم ہو جائے کہ ستر سے زائد مرتبہ مغفرت طلب کرنے پر اس کی بخشش ہو جائے گی تو میں ضرور اس سے زیادہ بار اس کے لئے بخشش کی دعا کروں گا۔یہ سن کر حضرت عمر رحمت و بخشش کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کے آگے نہ ٹھہر سکے۔آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔جنازہ کے ساتھ چل کر قبرستان تشریف لے گئے اور تدفین تک وہیں کھڑے رہے۔اسے جب قبر میں اتارا گیا تو آپ نے اسے باہر نکالنے کا ارشاد فرمایا۔اسے باہر نکالا گیا تو آپ نے اس کا سر اپنی گود میں رکھا اور اور اپنا لعاب دہن اس کے منہ پر انڈیلا اور اسے قبر میں اتارنے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ اسے قبر میں اتارا گیا اور تدفین کی گئی۔اس کی تدفین کے بعد ابھی آپ اس کی قبر سے لوٹے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حسب ذیل آیت کریمہ نازل فرمائی۔وَلَا تُصَلَّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ ، إِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَ مَاتُوا وَهُمْ فَسِقُوْنَ وَلَا تُعْجِبُكَ أَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ ، إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كُفِرُونَ ( اتو به :84،85) ترجمہ : اور تو ان میں سے کسی مرنے والے پر کبھی (جنازہ) کی نماز نہ پڑھ اور کبھی اس کی قبر پر دعا کے لئے) کھڑا نہ ہو۔یقینا انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کر دیا ہے اور وہ اس حالت میں مرے کہ وہ بد کر دار تھے۔اور ان کے اموال اور ان کی اولادیں تیرے لئے کوئی کشش پیدا نہ کریں۔اللہ محض یہ چاہتا ہے کہ ان ہی کے ذریعے سے انہیں اس دنیا میں ہی عذاب دے۔اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ