توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 296
توہین رسالت کی سزا 296 | قتل نہیں ہے ہے ، اس پر ہم نے علمی جرح کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ ان کا پیش کردہ مواد مستند نہیں ہے۔اسی وجہ سے اس پر قائم کئے گئے ان کے دلائل بھی درست نہیں ہیں۔اس کے مقابل پر آنحضرت صلی الم سے لے کر اب تک یعنی پندرہ صدیوں میں پھیلے ہوئے مسلمہ علمائے ربانی میں سے چند ایک کے نام پیش ہیں۔یہ بزرگ وہ ہیں جن پر تمام عالم اسلام فخر کرتا ہے۔ان میں سے کوئی بھی ہمیں ان دلائل، عقائد یا موقف پر کھڑا نظر نہیں آتا جن پر قتل شاتم کے قائل علماء یا فقہاء قائم تھے۔یہ سب علمائے ربانی اس نام نہاد اجماع میں کہیں بھی شامل نہیں ہیں۔یہ باخد ا علمائے اسلام وہ ہیں جو رسول اللہ صلی علیم کے زمانے سے آج تک ہر ایک صدی میں موجود رہے ہیں۔ان میں بڑے بڑے بیمثال صاحب کشف و الہام، اولیاء اللہ، مجتہد ، متکلم، محدث، متبحر عالم اور مفسر ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے غیر مسلموں پر حجت اور امت کے لئے ایمان و ہدایت کے سامان فرماتا رہا ہے۔جیسا کہ حضرت سیّد عبد القادر جیلانی، ابوالحسن خرقانی، ابو الحسن الشعری، ابو شریح ، ابو یزید بسطامی، جنید بغدادی، محی الدین ابن العربی، ابو عبید اللہ نیشاپوری ، قاضی ابو بکر باقلانی، سید علی ہجویری داتا گنج بخش، امام غزالی، امام جلال الدین السیوطی، امام حافظ ابن حجر عسقلانی، صالح بن عمر ، ذوالنون مصری، معین الدین چشتی اجمیری، قطب الدین بختیار کاکی ، امام محمد طاہر گجراتی، شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی، فرید الدین پاک پٹنی، نظام الدین دہلوی، شاہ ولی اللہ دہلوی اور سید احمد شہید بریلوی و غیر ہم ہیں۔ان علمائے ربانی کی تعداد ہزار ہا تک پہنچتی ہے۔ان کے علم و فضل کے واقعات اور تعلیمات پر مبنی کتابیں بکثرت موجو دہیں۔ان میں سے کوئی بھی شاتم رسول کے قتل کا قائل دکھائی نہیں دیتا۔اس وسیع منظر میں ایک متشددانہ عقیدے پر اجماع کا دعوی جھوٹا اور شر مسار دکھائی دیتا ہے۔