توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 297
توہین رسالت کی سزا { 297 ) قتل نہیں ہے اس کے ساتھ اس سچائی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ رسول اللہ صلی ال یکم نے علمائے سوء اور امت کی گمراہی کی بڑی واضح اور کھلے کھلے الفاظ میں نشاندہی کی ہے۔گمراہ کرنے والے علمائے سوء کا ذکر مجد دین و اولیاء اللہ کی تحریروں میں عام ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ان علمائے سوء کے پیچھے چلنے والے لوگ مسلمان بھی کہلاتے ہیں اور امت بھی۔لیکن ان کا کسی مسئلے میں اتفاق رسول اللہ صلی للی کم کا یا خلفائے راشدین کا مسلک قرار دینا گناہ بھی ہے اور گمراہی بھی۔اس حقیقت کو سمجھ لینا چاہئے کہ علمائے سوء کا ظالمانہ عقیدہ اور مسلک علمائے ربانی کا عقیدہ و مسلک نہیں ہے۔یہ خوں آشام عقیدہ یوں تو اسلام کی پہلی صدی سے ہی کسی نہ کسی رنگ میں جھانکتا دکھائی دیتا ہے۔مگر اس نے واضح طور پر علمی اور عملی رنگ میں دوسری صدی میں جڑیں پکڑنی شروع کی ہیں۔لیکن یہ حقیقت کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ اس عقیدے کے پیچھے خود غرض حکومتیں یا مخصوص طرز ہی کے علماء ہیں جو کار فرما ہیں۔پندرہ صدیوں میں پھیلے ہوئے علمائے تانی ایسے عقیدے کے علمبر دار نہیں تھے۔۲ روایات پر بحث والے باب میں ایسی تمام روایات کا تفصیلی علمی اور تحقیقی تجزیہ و حل پیش کیا گیا ہے جو قائلین قتل شاتم اپنے موقف کے حق میں پیش کرتے ہیں۔اُس باب میں بھی لکھا گیا ہے کہ قتل شاتم کے بارے میں فتووں کی بنیاد وہ روایتیں ہیں جن میں غالب اور نمایاں طور پر عبد الرزاق، واقدی اور عکرمہ ہیں۔عمومی طور پر یہ افرادان کے بنیادی ماخذ ہیں۔انہی کی وجہ سے بھی ایسے متشدد فتوے پھیلے ہیں۔جنہیں بعض کتابوں والے بار بار اور بتکرار ہزار لکھتے چلے گئے ہیں۔اس مسلسل کوشش سے ایک عام قاری پر یہ تاثر قائم ہونے لگتا ہے کہ اس مسئلے میں گویا بہت سے علماء نے متفق طور پر بہت کچھ لکھا ہے، لہذا یہ درست ہے۔مگر جیسا کہ ہم نے ثابت کیا ہے کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔وہ حقیقت یہ ہے کہ بعض مخصوص طرز کے علماء