توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 10 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 10

توہین رسالت کی سزا { 10 ) قتل نہیں ہے تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاؤ اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ اس کے بعد کبھی اُس کی بیویوں (میں سے کسی ) سے شادی کرو۔یقینا اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے۔یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو مسلمان تھے۔اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ان کے اس مذکورہ بالا رویے سے بھی رسول اللہ صلی کم کو اذیت پہنچتی تھی۔اگر بقول قائلین قتل شاتم اذیت کی وجہ سے قتل واجب ہوتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نعوذ باللہ رسول اللہ صلی للی یکم نے ان سب کو قتل نہ کر کے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ؟ پھر فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللهِ وَجِيهاً (الاحزاب:70) ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی۔پس اللہ نے اُسے اُس سے بری کر دیا جو انہوں نے کہا اور اللہ کے نزدیک وہ وجیہ تھا۔اس آیت میں جن مومنوں کا ذکر ہے جو کسی نا فہمی یا نادانستہ طور پر رسول اللہ صلی الی یوم کے لئے اذیت کا موجب بنے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو انہیں قتل کرنے کی تعلیم نہیں دی تھی بلکہ انہیں ایک قسم کی سرزنش کی تھی کہ وہ ان لوگوں کی طرح نہ بنیں جنہوں نے پہلے زمانے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اذیت دی تھی۔اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی ا ظلم کو ان لوگوں کے لئے کسی اور گرفت یا سز اوغیرہ کا کوئی ارشاد نہیں فرمایا۔اللہ تعالیٰ پہلے انبیاء کا اور ان کی امتوں کا ذکر کر کے حکایت بیان فرماتا ہے کہ انہوں نے بھی مخالفوں کی اذیتوں کے مقابلے میں ان میں سے کسی کو قتل نہیں کیا بلکہ اخلاق کے اعلیٰ تقاضوں کے تحت اسی صبر اور توکل کا ذکر کیا ہے انبیاء نے انہیں جس کی تلقین فرمائی تھی۔یہی