توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 11 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 11

توہین رسالت کی سزا { 11 - قتل نہیں ہے صبر اور توکل تھا جو انبیاء اور ان پر ایمان لانے والوں کی حقیقی طاقت تھا۔انسانوں کو قتل کرنا کبھی بھی انبیاء کا مقصود و مطلوب نہیں ہوا۔کیونکہ وہ انسانوں کی ہلاکت کے لئے نہیں، ان کو بقا عطا کرنے کے لئے مبعوث ہوتے ہیں۔وہ ان کے لئے زحمت نہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت لے کر آتے ہیں۔وہ خود قربانیاں پیش کر کے دوسروں کو زندگیاں عطا کرتے ہیں۔چنانچہ وہ اور ان کے پیروکار ہر اذیت برداشت کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو یہی کہتے ہیں کہ وَمَا لَنَا أَلا نَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ (ابراہیم : 13) ترجمہ : اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم اللہ پر توکل نہ کریں جب کہ اس نے ہماری راہوں کی طرف (خود) ہمیں ہدایت دی ہے۔اور ہم یقینا اس پر صبر کریں گے جو تم ہمیں تکلیف پہنچاؤ گے اور اللہ ہی پر پھر چاہئے کہ تو کل کرنے والے تو کل کریں۔یہ آیت کھول کھول کر منادی کر رہی ہے کہ صبر سے اور اللہ تعالیٰ پر توکل سے بہتر اور کوئی چیز نہیں جو اذیتوں کا مداوا کر سکے۔قرآن کریم بتا رہا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم وہ ہے جو اس نے سب نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو دی ہے۔چنانچہ پہلے نبیوں کی امتیں بھی اسی الہی سنت کے مطابق اذیتوں پر صبر کرتی تھیں اور ان کی بقا کا نسخہ بھی یہی صبر اور تو گل تھا۔رسول اللہ صل ا م چونکہ انبیاء کی تمام حسین اور خوبصورت تعلیموں کے جامع تھے۔لہذا آپ کا صبر اور توکل بھی دیگر انبیاء کے مقابل پر بیحد زیادہ ، وسیع اور جامع تھا۔قرآن کریم میں ان گزشتہ حکایات کو بیان کرنے کا اصل مقصود یہی ہے کہ رسول اللہ صلی الی یوم کے پیروکار اور امتی بھی بدرجہ اولیٰ ہر اذیت پر صبر کے اعلیٰ نمونے دکھائیں اور اللہ تعالیٰ پر انتہائی تو کل کریں۔مگر افسوس ہے کہ آج کے نام نہاد امتی ہیں کہ اس سنہری تعلیم کو اپنے خوں آشام ارادوں کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔بات بات پر بے صبری دکھاتے ہیں اور مومنانہ سنت تو کل سے منحرف ہیں۔