توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 212 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 212

توہین رسالت کی سزا 212 { قتل نہیں ہے اس واقعے کا منظر یہ ہے کہ فتح مکہ کے روز صحابہ نے آنحضرت صلی الم سے دریافت کیا کہ سکتے میں آپ کہاں قیام فرمائیں گے ؟ تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: "هَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مَنْزِلٍ ثُمَّ قَالَ لَا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ وَلَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُؤْمِنَ “ (بخاری کتاب المغازی غزوه فتح مکہ و کتاب الفرائض باب لا بیٹ المسلم الکافر) کہ عقیل نے تو ہمارا کوئی گھر بھی نہیں چھوڑا۔یعنی میرے رشتہ داروں نے میری ہجرت کے بعد میری ساری جائیداد بیچ ڈالی ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ موسمن کا فر کا وارث نہیں ہو گا اور کافر موسمن کا وارث نہیں ہو گا۔(مسلم کتاب الفرائض میں مؤمن کی جگہ 'مسلم' کے الفاظ ہیں۔) آنحضرت صلی اللہ کا یہ قول فتح مکہ کے روز کا ہے۔اسے بعض علماء نے بھی ایک عام اور مستقل قانون قرار دیا ہے۔اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ یہاں چونکہ نہ دارالحرب کا ذکر ہے اور نہ کسی اور ایسی بات کا جو اس کو مخصوص یا محدود کرتی ہو۔اس لئے یہ ایک عمومی اور دائمی حکم قرار پائے گا۔ان کا خیال اپنی جگہ مگر اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللی یکم کے بعض احکامات بعض مخصوص تناظر میں ہیں۔آپ جب کسی خاص پس منظر میں کوئی بات بیان فرماتے تھے تو اس پس منظر کو جاننے کی وجہ سے صحابہ اس کا مطلب سمجھ رہے ہوتے تھے۔اس لئے اس وقت آپ کے اس فرمان کے بارے میں ایسی بحث نہیں اٹھی کہ وہ دائمی حکم ہے ، مشروط ہے یا بعض مخصوص حالات سے تعلق رکھنے والا محدود حکم ہے؟ چونکہ ایسی تفصیلات اس وقت سامنے نہیں آئیں لہذا بعد میں بعض فقہاء نے اس کو ایک عام اور دائمی حکم قرار دے دیا۔آنحضرت صلی ا یکم جب یہ فرماتے ہیں کہ نہ مسلمان غیر مسلم کا وارث ہو گا نہ غیر مسلم مسلمان کا وارث ، تو ماحول اور پس منظر کو سامنے رکھ کر اس فرمان کی نوعیت کو جاننا ضروری ہے