توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 200
توہین رسالت کی سزا 200 | قتل نہیں ہے اس عبارت پر ایک ادنی سے غور سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ من گھڑت کہانی ہے۔کیونکہ اس کہانی کا منظر یہ ہے کہ کعب بن اشرف مکے میں پھر رہا ہے اور اسے لوگ گھر سے نکال رہے ہیں اور رسول اللہ صلی علی یکم مدینے میں ہیں مگر جب کعب کسی دوسرے گھر میں جاتا ہے تو آپ کو دو سو سے زائد میل دور مدینے میں اسی وقت اس کا علم ہو جاتا ہے۔آپ حضرت حستان کو بلاتے ہیں۔وہ آپ کے ارشاد پر اس گھر والے کی ہجو کرتے ہیں جس میں کعب ٹھہرتا ہے تو سکتے میں بیٹھا وہ شخص حضرت حسان کی ہجو سن لیتا ہے اور کعب کو گھر سے نکال دیتا ہے۔اور یہ کھیل مسلسل ہو تا چلا جاتا ہے حتی کہ کعب بے عزت ہو کر اور تنگ آکر واپس مدینے چلا آتا ہے۔یہاں یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خو در سول اللہ صلی الی یکم کو مدینے میں خبر دے دیتا تھا کہ کعب کتے میں کس کے گھر مہمان ہو رہا ہے۔مگر مدینے میں بیٹھے بیٹھے ہر بار آپ کا حضرت حستان کو بلانا اور ان کا کعب کے ساتھ اس گھر والوں کی ہجو کہنا اور اس ہجو کا آنا فانا کتے پہنچ جانا اور میز بانوں کا اس ہجو کو سن لینا اور اس کے نتیجے میں کعب کو گھر سے نکال دینا، محض اور محض ایک گپ ہے۔ایک دیو مالائی کہانی ہے۔اسے کسی طرح بھی ایک سچ اور حقیقت کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔کجا یہ کہ اس پر کسی عقیدے یا قانون کی بنیاد رکھی جائے۔جو ایسی من گھڑت کہانیوں کو دین کے مسائل کی بنیاد بناتے ہیں، وہ دراصل دین کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔انا للہ و انا الیہ راجعون قتل کی وجہ، لسانی ایذاء !!! پھر کعب کے معاملے میں الصارم۔۔۔۔۔۔کے اگلے صفحے 60 پر إِنَّ قَتْلَ ابْنَ الْأَشْرَفِ كَانَ بِسَبَبِ كَثْرَةِ ذُنُوبِهِ“ کے عنوان کے تحت بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کعب بن اشرف کا