توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 179
توہین رسالت کی سزا 179 } قتل نہیں ہے ہے۔پھر آگے چل کر واقدی کے بارے میں یہ بھی لکھا ہے : مَعَ مَا فِي الْوَاقِدِي مِنَ الضُّعْفِ (الصارم۔۔۔۔۔زیر عنوان ” الدلیل السادس قصة امرأة من خطمة كانت تہجو النبي ، صفحہ 70) کہ واقدی میں (روایت کے سلسلے میں) ضعف پایا جاتا ہے۔كتاب الصارم المسلول کی یہ ایک بنیادی اور سنگین لغزش ہے کہ اس کی بنیاد زیادہ تر واقدی کی روایات پر استوار ہے۔گو مذکورہ بالا اقتباس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ ”ہم نے واقدی سے وہی کچھ لے کر ذکر کیا ہے جو ہم نے باسند دوسروں سے نقل کیا ہے۔مگر یہ بیان قارئین کے لئے محض ایک طفل تسلی کے طور پر ہے۔کیونکہ جس روایت میں واقدی موجو د ہو ، چاہے اس کے ساتھ کیسی بھی سند ہو، اس کی وجہ سے اکثر و بیشتر مشکوک، کمزور اور ضعیف بلکہ جیسا کہ ائمہ فن نے بیان کیا ہے ، اکثر وضعی ہوتی ہے۔دوسرے یہ کہ اگر دوسروں سے کچھ باسند لیا ہے تو پھر واقدی سے لینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے تھی۔مگر اصل بات یہی ہے کہ واقدی اس طرح کا وضعی اور جھوٹا مواد بکثرت مہیا کر دیتا ہے جو اس طرح کے موضوعات کے لئے مرغوب ہے۔علاوہ ازیں اس کی روایات کی اسناد بھی محل نظر ہیں۔ان میں بھی اکثر خود تراشیدہ ہیں۔ہم قطعا یہ نہیں کہتے کہ واقدی کی پیش کردہ ہر روایت ہی جھوٹی ہے۔ہمارا دکھ یہ ہے کہ وہ روایات جو آیات قرآنیہ اور سنت و حدیث نبوی کے صحیح مجموعے سے ٹکراتی ہیں، انہیں ترک کیوں نہیں کر دیا گیا۔واقدی ہو یا کوئی اور ، جس کی بھی پیش کردہ ایسی روایات جو ہدایت کے مذکورہ بالا ان بنیادی سرچشموں سے سیراب ہوتی ہوں وہ تو درست قرار دی جاسکتی ہیں مگر جو ہر قسم کی توجیہ اور تطبیق کی کوشش کے باوجود ان کے مخالف اور متصادم ہوں وہ بہر حال جھوٹی اور وضعی ہیں۔انہیں ترک کرنا ضروری ہے۔واقدی اور اس جیسے اور اصحاب نے چونکہ خود ایسی