توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 159 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 159

توہین رسالت کی سزا 159 | قتل نہیں ہے ہو گئے تھے۔بالآخر اس بغاوت میں اسود عنسی خود بھی اپنے بہت سے ساتھیوں سمیت قتل ہوا۔پھر یہ بغاوت حضرت ابو بکر کے زمانے تک بھی ممتد رہی۔جنگوں میں اشتعال دلانے کے لئے رزمیہ اور ہجو یہ شعر گانے والی عور تیں فوج کا جزو اور لڑائی میں مکمل حصہ دار ہوتی ہیں۔لہذا لڑائی کے دوران اگر وہ قتل ہوئی تھی تو اس کا قتل لڑائی کے مسلمہ اصولوں میں سے تھا۔اسی کی بابت حضرت ابو بکر نے توجہ دلائی تھی کہ ہاتھ کاٹنے یا دانت توڑنے کی سزا تو کوئی سزا نہیں ہے۔مگر تم اب اسے یہ سزادے چکے تو اب مزید کارروائی کی ضرورت نہیں۔میدانِ کارزار میں اگر سامنے آجائے تو ایسے محارب کو اسی دم قتل کرناضروری ہوتا ہے۔قائلین قتل شاتم کی دلیل اس پہلو سے بھی کمزور اور بے بنیاد ثابت ہوتی ہے کہ اگر ہجویہ اشعار یا توہین رسول پر قتل کرنا شرعی سزا کے طور پر قائم اور نافذ ہو چکا ہوتا تو ہاتھ دانت کٹ جانے سے حضرت ابو بکر وہ سز ا ساقط کس طرح کر سکتے تھے ؟ اس کے بعد بھی تو اسے اصل سزا کے تحت قتل کیا جانا ضروری تھا۔پس قارئین غور فرمائیں کہ یہ روایت اسی سچائی کا ثبوت مہتا کرتی ہے کہ توہین رسالت کی سزا قتل نہیں ہے۔نیز خلیفتہ الرسول کا کسی شرعی حکم سے پہلو تہی کرنا ممکن نہیں۔جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے اگر ایک ثاننے کے لئے اس روایت کو درست مان بھی لیا جائے تو حضرت ابو بکر کا مذ کورہ بالا تبصرہ محض یمن میں باغیانہ کارروائیوں اور جنگی حالات کے تحت تھا۔عام حالات کے مطابق نہیں تھا۔اسی طرح مہاجر بن ابی امیہ نے اگر بطور جرنیل اس عورت کو موقع پر سزادی تھی تو وہ ان کا اپنا فیصلہ تھا۔اس سے بڑھ کر اس کی نہ کوئی حیثیت تھی، نہ ہی ان کے اس فعل کو شریعت کا کوئی حکم قرار دیا جا سکتا ہے۔