توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 158
توہین رسالت کی سزا 22 یمن میں ایک مرتدہ 158 قتل نہیں ہے قاضی عیاض کی کتاب الشفا کے حوالے سے یہ بے سند روایت بھی شاتم رسول کے قتل کے حق میں پیش کی جاتی ہے۔وہ لکھتے ہیں: یمن کے گورنر مہاجر بن امیہ نے حضرت ابو بکر صدیق کو اطلاع دی کہ وہاں ایک عورت مرتد ہو گئی۔اس نے رسول اللہ صلی الم کی شان میں گستاخی والا گیت گایا۔گورنر نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا اور سامنے والے دو دانت توڑ دیئے۔حضرت ابو بکر صدیق کو پتہ چلا تو آپ نے فرمایا۔اگر تو فیصلہ کر کے عمل نہ کر چکا ہوتا تو میں اس عورت کے قتل کرنے کا حکم صادر کرتا۔اس لئے کہ نبیوں کی تنقیص کی تعزیر حدود جیسی نہیں ہوتی۔یا نبیوں کی بیان کردہ سزائیں حدود جیسی نہیں ہو تیں۔“ روایت کے الفاظ یہ ہیں: "وَبَدَغَ الْمُهَاجِرَ ابْنَ أَبِي أُمَيَّةَ آمِيرَ الْيَمَنِ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةٌ هُنَاكَ فِي الرِّدَةِ غَنَّتْ بِسَبِّ النَّبِيِّ عَلاهُ اللهُ فَقَطَعَ يَدَهَا وَنَزَعَ ثَنِيَّتَهَا فَبَلَغَ ذلِكَ آبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ لَوْلَا مَا فَعَلْتَ لَأَمَرْتُكَ بِقَتْلِهَا لِأَنَّ حَدَّ الْأَنْبِيَاءِ لَيْسَ يُشْبِهُ الْحُدُودَ ( الشفاء القسم الرابع في تصرف وجوه الاحکام فیمن تنقصہ او سنہ علیہ السلام۔الباب الاول فی بیان ما هو فى حقه است او نقص۔۔۔۔۔مع شرح ملا علی قاری صفحه 406 ) اگر اس بے سند روایت کو درست مان بھی لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب رسول اللہ صلی اللی علم کے وصال سے قبل یمن میں اسود عنسی نے نبوت کا دعوی کر کے عام بغاوت کی اور کھلی کھلی جنگ کا اعلان کر دیا تھا۔اس میں یمن کے بہت سے مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا تھا۔یمن کے علاقہ صنعاء کے گورنر حضرت شہر بن باذان بھی اس کے مقابلے میں شہید