توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 153
توہین رسالت کی سزا 153 | قتل نہیں ہے یہ معنے نہیں لئے جاسکتے کہ نبیوں کو گالی دینے والے کو جان سے مار دیا جائے اور کسی صحابی کو گالی دینے والے کو ظاہری کوڑوں سے مارا پیٹا جائے۔ا: خلاصه کلام: یہ روایت ابتدائی صحیح اور مستند مجموعہائے احادیث میں شامل نہیں ہے۔یہ چوتھی صدی ہجری میں منصہ شہود پر ابھری ہے۔ائمہ فن کے مطابق یہ روایت علم سند اور علم درایت کے لحاظ سے ضعیف روایت ہے بلکہ موضوع ثابت ہوتی ہے۔: ہے۔: اس روایت میں جو تغیر و تبدل ہوا ہے، اس سے اس کے معنوں میں بھی تبدیلی آئی آنحضرت صلی م ، خلفائے راشدین اور صحابہ کے اپنے عمل سے ثابت ہے کہ یہ بات ان کے زمانے میں بالکل بھی موجود نہیں تھی۔نہ ہی اس پر کبھی ان معنوں میں عمل ہوا ہے جو معنے آج متشد دلوگ لیتے ہیں۔♡: اس روایت کے تمام الفاظ اُن معنوں کو رد کرتے ہیں جو ایک مخصوص طبقہ محض کشت و خون کے لئے اختیار کرتا ہے۔اس روایت کی نحوی ترکیب بتاتی ہے کہ اس میں صرف رسول اللہ صلی ال کی مخصوص نہیں ہیں، بلکہ تمام انبیاء مراد ہیں۔