توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 141
توہین رسالت کی سزا { 141 } قتل نہیں ہے پھر اس پر جھوٹ باندھا گیا ہے اور اس کے نام پر ایک پورا پلندہ ڈال دیا گیا ہے۔جیسا کہ اس کے اپنے دادا جعفر صادق پر جھوٹ باندھا گیا تھا۔(شرح الشفاء القسم الرابع في تصرف وجوه الاحکام فیمن تنقصه او سبتہ علیہ السلام الباب الاول فی بیان ما هو فى حقه۔۔۔۔صفحه 403) اس روایت کے حامی اس تمام بحث کو جانتے ہیں جو اس روایت کو ضعیف ثابت کرتی ہے۔مگر اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ اسے ضعیف تو کہا گیا ہے مگر اسے موضوع قرار نہیں دیا ان لوگوں کو امام ذہبی کا یہ مذکورہ بالا بیان دیکھنا چاہئے کہ ” فَالرَّجُلُ قَدْ كُذِبَ عَلَيْهِ وَ وُضِعَ عَلَيْهِ نُسْخَةٌ سَابِرَةٌ “ پلندے تیار کر کے کسی دوسرے پر ڈال دینا یا اس کی طرف منسوب کر دینا، وضع کرنا ہی ہے۔ایسے مواد کو موضوع ہی کہا جاتا ہے۔وہ روایت جس میں سچ ، دیانتداری ، حافظه، نیک شہرت، عبادات وغیرہ میں شہرت اچھی نہ رکھنے والے راوی ہوں، ضعیف کہلاتی ہے۔جبکہ موضوع روایت وہ کہلاتی ہے جو جھوٹی ہو یعنی ایک بات غلط یا جھوٹے طور پر آنحضرت صلی یکی کی طرف منسوب کر دی گئی ہو۔چنانچہ اس روایت میں یہ بات واضح طور پر موجو د ہے۔علم اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کے ائمہ جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، کے علاوہ امام نسائی، امام نور الدین الہیثمی، امام ابن حجر عسقلانی، امام دار قطنی، علامہ ناصر الدین البانی،علامہ یجی ابن معین، امام ابو حاتم الرازی رحمہم اللہ نے اس روایت کے راویوں پر علم روایت کے اعتبار سے واضح اور سنگین شواہد پیش کئے ہیں، یعنی ان کو جھوٹا، کذاب، غیر ثقہ ، ضعیف، موضوع روایات بیان کرنے والے، احادیث کو خلط ملط کرنے والے، احادیث چوری کرنے والے، حافظہ