توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 122 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 122

توہین رسالت کی سزا 122 } قتل نہیں ہے راوی نے تو یہ بیان کیا ہے کہ اس رات اس نے رسول اللہ صلی ا ظلم کے خلاف بد زبانی کی تھی مگر وہ راوی خود وقوعے کا گواہ تو نہیں ہے۔راوی اور قاتل کے بیان سے اگر ہٹ کر دیکھا جائے تو یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ اس موقع پر در حقیقت کس بات پر جھگڑا ہوا تھا۔اس مقدمے میں مزید چند امور ایسے ہیں جن سے صرفِ نظر ممکن نہیں۔مثلاً اگر نابینا قاتل مان بھی لیا جائے تو مقتولہ ایسی اتم الولد تھی جس کا کوئی والی وارث نہ تھا۔لہذ اقصاص کس نے لینا تھا؟ دیت کس کو دینی تھی ؟ جب قصاص یا دیت کے لئے مدعی ہی کوئی نہیں تھا تو اس نابینے قاتل کو کیونکر قصاص میں قتل کیا جاتا؟ یہ ایسا کیس تھا جو کسی بھی عدالت میں دیا جائے تو دعوی، شہادت، ثبوت یا دلائل وغیرہ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے یہ عدالت سے لازماً خارج ہو گا۔اس صورتِ حال میں یہی معنے دَمُهَا ھدر کے ہیں کہ اس کا خون رائیگاں چلا گیا۔اس کا کوئی والی وارث نہ تھا جو اس کے خون سے کا مطالبہ کرتا۔آنحضرت صلی الم نے فرمایا دَمُهَا هَدَر کہ اس کا خون معاف ہے یا رائیگاں ہے۔حیرت ہے کہ اس سے یہ ظالمانہ مطلب کس طرح اخذ کیا گیا ہے کہ آپ پر سب و شتم کرنے والے کو جو چاہے قتل کر دے۔اس مقتول شاتم کا خون رائیگاں سمجھا جائے گا۔یہاں کوئی عام قانون تو بیان نہیں ہوا۔بلکہ اس زیر نظر معتین اور منفرد مقدمے پر اس کی اپنی ایک الگ نوعیت کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علم کا ایک معین اور مخصوص فیصلہ ہے کہ یہ مقتولہ، جس کا کوئی والی وارث نہیں، کوئی قصاص کا مطالبہ کرنے والا نہیں، کوئی دیت کا طلبگار نہیں۔کسی کو اس کا خونہا ادا کرنا ممکن نہیں ہے عملاً وہ رائیگاں چلا گیا ہے۔یہ ہے اس فیصلے کا اصل منظر اور پس منظر۔