توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 114 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 114

توہین رسالت کی سزا { 114 } قتل نہیں ہے پس بالکل واضح ہے کہ یہ بہیقی اور مصنف عبد الرزاق کے کرشمے ہیں کہ وضعی اور جھوٹی روایتیں گھڑتے یا جمع کرتے چلے جاتے ہیں۔اور آج انسانی خون سے کھیلنے والے ایسی روایت کو اپنے جھوٹے عقیدے کی تائید میں پیش کر کے اپنے عقیدوں کے جھوٹا ہونے کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔کتاب "الصارم۔۔۔۔۔۔میں اس روایت کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ اس موقع پر رسول اللہ صلی الم نے فرمایا : "مَنْ كَذَبَ عَلَى مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّاً مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ۔“ کہ جو جھوٹے طور پر جان بوجھ کر میری طرف کوئی بات منسوب کرے تو وہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنائے۔( الصارم المسلول۔۔۔۔۔۔زیر عنوان مسبب تعیین قتل الساب، صفحہ :117) اس کے بعد لکھا ہے کہ انہوں نے اسے جلا دیا۔یعنی رسول اللہ صلی الی یکیم کے اس قول کا یہ مطلب تھا کہ اس مرے ہوئے شخص کو جلا دیا جائے۔یہ ایک عجیب استدلال ہے کہ ' آگ میں ٹھکانے سے مراد یہ ہے کہ مردہ کو جلا دیا جائے۔اگر یہ استدلال درست تسلیم کر لیا جائے تو قرآن کریم میں مثلاً آتا ہے کہ ”وَالَّذِينَ كَفَروا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَبِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (البقرة:40) کہ جنہوں نے کفر کیا اور ہمارے نشانات کو جھٹلایا، یہ آگ میں جھونکے جانے والے ہیں، وہ اس میں لمبا عرصہ رہیں گے۔ان تمام کفار اور آیات کی تکذیب کرنے والوں کو زندہ یا ان کے مرنے کے بعد جلا دینا چاہئے تھا۔ظاہر ہے کہ ایسے سب لوگ ہمیشہ رسول اللہ صلی الی یوم کے ارد گرد رہے ہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کا انکار ، رسول کا انکار اور آیات کی تکذیب آپ پر جھوٹ باندھنے سے بڑے جرم ہیں۔لیکن تاریخ اسلام کا سچا اور مستند ریکارڈ گواہ ہے کہ ان پر انہیں مار کر جلایا نہیں گیا۔بلکہ کسی ایک کے ساتھ بھی یہ سلوک نہیں کیا گیا۔ایسے لوگ جب جنگ بدر میں مقتولین کی صورت میں