توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 75 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 75

توہین رسالت کی سزا :5 عقبہ بن ابی معیط ( 75 )- قتل نہیں ہے قریش مکہ میں سے آنحضرت صلی اللہ ظلم کے دشمن بغیض عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غزوہ بدر کے قیدیوں میں تھا۔چونکہ اس نے آپ کی توہین کی تھی، لہذا آپ نے اسے قتل کروادیا تھا۔چنانچہ سپین کے قاضی عیاض نے اپنی کتاب ” الشفا میں لکھا ہے کہ عقبہ بن ابی معیط کے بارہ میں بزار نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ عقبہ بلند آواز سے پکارا کہ اے قریش مجھے کیوں قتل کیا جارہا ہے جبکہ میں تمہارے پاس محبوس ہوں۔آنحضرت صلی یم نے فرمایا کہ تیرے کفر کی وجہ سے اور رسول اللہ پر افتراء کی وجہ سے۔اس ضمن میں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ مستند روایت نہیں ہے۔چنانچہ اس روایت پر ملا علی القاری نے لکھا ہے کہ بزار نے یہ روایت ابن عباس کی طرف ضعیف سند کے ساتھ منسوب کی ہے۔( شرح الشفاء القسم الرابع فی بیان ماھو فی حقہ علیہ السلام سب او نقص صفحه 405) علاوہ ازیں معمولی سی تحقیق سے اس روایت کی حقیقت کھل جاتی ہے کہ یہ روایت وضعی ہے۔اس واقعے کی حقیقی اور اصل تفصیل یہ ہے کہ غزوہ بدر میں ستر کفار کو قیدی بنایا گیا تھا۔یہ سب وہ لوگ تھے جو آنحضرت صلی للی کم کی تکفیر ، تکذیب، آپ پر افتراء، آپ پر ظلم و تشدد اور آپ کی شدید اور کھلی کھلی ہتک و توہین کے مرتکب تھے۔جنگ بدر میں بھی وہ آپ کے قتل کے لئے ہی مکہ سے آئے تھے۔اس لحاظ سے ان سب قیدیوں پر ایک ہی فرد جرم یکساں عائد ہوتی