توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 60
توہین رسالت کی سزا ( 60 } قتل نہیں ہے پس یہ حقیقت ہے کہ کسی جنگ میں اگر کسی ہجو گومر دیا عورت کا قتل ہوا تھا تو وہ جنگ میں شمولیت کے باعث جنگی قتل تھا ، وہ کشتہ ہجو و توہین نہ تھا۔اس کے علاوہ اگر کسی ایسے مر دیا عورت کا ذکر آتا ہے جس کے ساتھ ہجو یہ اشعار کا بھی ذکر تھا اور اس کے قتل کے لئے رسول اللہ صلی اللہ کا حکم تھا۔تو وہ لوگ لازماً ایسے تھے جو یا تو خود کسی سنگین جرم کے مر تکب تھے یا کسی محار بانہ یا باغیانہ کارروائیوں میں شامل تھے یا کسی ایسے گروہ کے رکن تھے۔جیسا کہ ابن خطل یا اس کی داشتا ئیں تھیں۔ایسے لوگ ہجو کی وجہ سے سزائے قتل کے مستحق نہ ٹھہرے تھے بلکہ کسی دوسرے جرم کی وجہ سے سزاوار قتل قرار پائے تھے۔اس کے علاوہ بھی بعض افراد تھے جن کے قتل پر مشتمل روایات پیش کی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی الیکم کے بارے میں بد زبانی کی وجہ سے انہیں قتل کیا گیا تھا۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ چونکہ ان روایات سے آپ کے خلاف ایک ظاہری صورت اعتراض کی پیدا ہو جاتی ہے، اس لئے بعض معاندین اسلام اور مستشرقین نے حسب عادت نہایت ناگوار صورت میں ان کا ذکر کیا ہے۔ظاہر ہے کہ معاندین اسلام کو جو مواد مہیا ہوا ہے وہ اسی قسم کی روایتوں کو درج کر کے ” اپنے ہی دوستوں“ نے مہیا کیا ہے۔ان روایات کی حیثیت کیا ہے اور ان میں مذکور واقعہ قتل کی وجوہات کیا تھیں، ایک حقیقت افروز تجزیہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔*****