توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 56 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 56

توہین رسالت کی سزا ( 56 ) قتل نہیں ہے سے مشرق کی طرف ایک شاداب جگہ ہے، ایسے میلوں کے لئے خاص شہرت رکھتا تھا۔یہاں ہر سال ماہِ ذیقعدہ میں میلہ لگتا تھا اور دور دراز سے لوگ جمع ہوتے تھے اور علاوہ دوسرے مشاغل کے مختلف عرب قبائل کے درمیان فصاحت و بلاغت اور شاعری کے مقابلے بھی ہوتے تھے۔اگر یہ قادر الکلام شعراء حسّاس شاعرانہ جذبوں کے ساتھ دوسروں پر موئثر تھے تو خود ان کے اپنے حسّاس شاعرانہ دل بھی شعروں کے سوز و ساز سے مر نعش و متاثر ہوتے تھے۔چنانچہ یہ ایک اہم تاریخی واقعہ ہے کہ بنو تمیم کا وفد 9ھ میں رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس آیا اور فصاحت اور شاعری کے مقابلے میں حضرت قیس بن ثابت کی فصاحت اور حضرت حسان بن ثابت کی بے نظیر شاعری سے مات کھانے کی وجہ سے اسلام میں داخل ہو گیا۔اسی طرح کہتے ہیں کہ عرب کا مشہور شاعر عبد اللہ بن الزبعرای آنحضرت صلی اللی علم کی ہجو کرتا تھا۔وہ فتح مکہ کے بعد اس ڈر سے نجران بھاگ گیا تھا کہ کہیں اسے قتل نہ کر دیا جائے۔حضرت حسان نے اسے یہ ایک ہی شعر لکھ بھیجا: لَا تَعْدَ مَنْ رَجُلًا أَحَلَّكَ بُغْضُهُ نَجْرَانَ فِي عَيْشِ أَحَذَ لَبِيْمٍ کہ تو ایسے شخص سے مت محروم ہو جس کے بغض نے تجھے دور دراز نجران میں جاڈالا ہے۔جہاں تو سب سے کٹ کر بُری زندگی گزار رہا ہے۔(ابن ہشام ، باب فی میمی، اسلام ابن الزبعری) یہ شعر عبد اللہ بن الزبعری کے حساس شاعر دل کو اس حد تک گھائل کر گیا کہ وہ واپس آیا اور مدینہ پہنچ کر رسول اللہ علی ایم کے حلقہ غلامی میں داخل ہو کر اسلام کا خادم بن گیا۔اور پھر وہ آپ کی سیرت کے حسن و جمال کے مشاہدے کے بعد آپ کے قصیدے لکھنے لگا۔