توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 52 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 52

توہین رسالت کی سزا ( 52 } قتل نہیں ہے قتل کعب بن اشرف) مدینے میں جب کعب کے قتل کی خبر مشہور ہوئی تو شہر میں ایک سنسنی پھیل گئی اور یہود کا سخت جوش میں آجانا ایک طبعی بات تھی۔چنانچہ صبح ان کا ایک وفد آنحضرت صلی للی یکم کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ ہمارا سر دار کعب بن اشرف قتل کر دیا گیا ہے۔آپ نے ان کی باتیں سن کر کہا کہ کیا تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ کعب کس کس جرم کا مر تکب ہوا ہے ؟ اور پھر آپ نے اجمالاً اُن کو کعب کی عہد شکنی، تحریک جنگ، فتنہ انگیزی، فحش گوئی اور سازش قتل و غیرہ کی کارروائیاں یاد دلائیں۔(ابو داؤد کتاب الخراج۔۔۔۔باب کیف کان اخراج الیبو د من المدينة ، نیز ابن سعد، سریہ قتل کعب بن الاشرف) جس پر وہ لوگ سمجھ گئے کہ وہ ان قومی جرائم کی وجہ اوار قتل تھا۔لہذاوہ خاموش ہو گئے۔(فتح الباری، کتاب المغازی باب قتل کعب بن اشرف و زرقانی ، قتل کعب بن اشرف) اس کے بعد آنحضرت صلی نیلم نے اُن سے فرمایا کہ تمہیں چاہئے کہ کم از کم آئندہ کے لئے ہی امن اور تعاون کے ساتھ رہو اور عداوت اور فتنہ و فساد کا بیج نہ بوؤ۔چنانچہ یہود کی رضامندی کے ساتھ آئندہ کے لئے ایک نیا معاہدہ لکھا گیا اور یہود نے مسلمانوں کے ساتھ امن و امان سے رہنے اور فتنہ فساد کے طریقوں سے بچنے کا از سر نو وعدہ کیا۔(ابو داؤد کتاب الخراج باب کیف کان اخراج الیهود و نیز ابن سعد ، سرید قتل کعب بن اشرف) بعد از تحریر یہ عہد نامہ حضرت علی کی سپر دگی میں دے دیا گیا۔( ابن سعد، سریہ قتل کعب بن اشرف) سیرت ابن ہشام کے مطابق یہ قتل جمادی الآخرہ 3 ہجری میں ہو ا تھا۔پس روزِ روشن کی طرح یہ عیاں ہے کہ کعب اپنے کئی قومی جرموں خصوصاً بغاوت اور فتنہ گری وغیرہ کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔اس کا ایک بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ یہود نے کعب کے قتل کو بعد میں کبھی مسئلہ نہیں بنایا۔چنانچہ تاریخ میں کسی جگہ بھی مذکور نہیں کہ رسول اللہ صلی اللی یم کی اس وضاحت کے بعد یہودیوں نے کبھی کعب بن اشرف کے قتل کا ذکر کر کے