توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 51
توہین رسالت کی سزا { 51 ) قتل نہیں ہے قرض دے سکتے ہو ؟ ( یہ بات گو اس موقع کے لئے اختیار کی گئی ہو مگر اپنی جگہ درست تھی کیونکہ آنحضرت صلی علیکم واقعہ اپنے صحابہ سے قومی ضروریات کے لئے چندے اور زکوۃ کا مطالبہ فرمایا کرتے تھے اور یہ بھی درست ہے کہ صحابہ عمو مانادار اور غریب تھے۔) وو یہ بات سن کر کعب خوشی سے کود پڑا اور کہنے لگا، واللہ ! ابھی کیا ہے، وہ دن دور نہیں جب تم اس شخص سے بیزار ہو کر اُسے چھوڑ دو گے۔محمد نے جواب دیا۔خیر ہم تو محمد علی ایم کی اتباع اختیار کر چکے ہیں اور اب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس سلسلے کا انجام کیا ہوتا ہے ، مگر تم یہ بتاؤ قرض دو گے یا نہیں ؟ کعب نے کہا ” ہاں! مگر کوئی چیز رہن رکھو۔“ محمد نے پوچھا: "کیا چیز ؟ “ اس بدبخت نے جواب دیا: ”اپنی عورتیں رہن رکھ دو" محمد نے غصے کو دبا کر کہا: ” یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہارے جیسے آدمی کے پاس ہم عورتیں رہن رکھ دیں۔“ اُس نے کہا: ”اچھا تو پھر بیٹے سہی۔“ محمد نے جواب دیا : ” یہ بھی نا ممکن ہے۔ہم سارے عرب کا طعن اپنے سر پر نہیں لے سکتے۔البتہ اگر تم مہربانی کرو تو ہم اپنے ہتھیار رہن رکھ دیتے ہیں۔“ کعب راضی ہو گیا اور محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھی رات کو آنے کا وعدہ دے کر واپس چلے آئے۔جب رات ہوئی تو یہ پارٹی ہتھیار وغیرہ لے کر ( کیونکہ وہ اجازت دے چکا تھا اور اب وہ بر ملاطور پر ہتھیار اپنے ساتھ لے جاسکتے تھے ) کعب کے مکان پر پہنچے اور اُسے اس کے گھر سے باتیں کرتے کرتے ایک طرف کو لے آئے۔تھوڑی دیر کے بعد چلتے چلتے محمد بن مسلمہ یا اُن کے کسی ساتھی نے کسی بہانے سے کعب کے سر پر ہاتھ ڈالا اور نہایت پھرتی کے ساتھ اس کے بالوں کو مضبوطی سے قابو کر کے اپنے ساتھیوں کو آواز دی، مارو۔ان کے ساتھیوں نے جو پہلے سے تیار اور ہتھیار بند تھے فوراً تلواریں چلا دیں۔کعب قتل ہو کر گرا اور محمد بن مسلمہ اور اُن کے ساتھی وہاں سے نکل کر آنحضرت صلی ال ظلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور آپ کو اس کے قتل کی اطلاع دی۔( بخاری، کتاب المغازی باب