توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 47
توہین رسالت کی سزا ( 47 ) قتل نہیں ہے الاشرف ، دار الکتب العلمیہ، بیروت) مگر اخلاقی نقطہ نگاہ سے وہ نہایت گندے اخلاق کا آدمی تھا اور خفیہ چالوں اور ریشہ دوانیوں کے فن میں بھی اسے کمال حاصل تھا۔یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنے والی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ ظلم جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو کعب بن اشرف نے دوسرے یہودیوں کے ساتھ مل کر اُس معاہدے میں شرکت کی جو آنحضرت صلی للی کم اور یہود کے درمیان باہمی دوستی اور امن و امان اور مشتر کہ دفاع کے متعلق تحریر کیا گیا تھا۔(زرقانی، قتل کعب بن الا شرف، دار الکتب العلمیہ ، بیروت۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ کعب کے دل میں ایک طبعی منافقت اور حسد کی وجہ سے اندر ہی اندر بغض و عداوت کی آگ سلگنے لگی تھی۔اس نے خفیہ چالوں اور مخفی ساز باز سے اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ یکم کی مخالفت شروع کر دی۔چنانچہ لکھا ہے کہ کعب ہر سال یہودی علماء و مشائخ کو بہت سی مالی معاونت کر تا تھا۔آنحضرت صلی نیلم کی مدینے ہجرت کے بعد جب یہ لوگ اپنے سالانہ وظائف لینے کے لئے اس کے پاس گئے تو اس نے باتوں باتوں میں اُن کے پاس آپ کا ذکر شروع کر دیا اور اُن سے آپ کے متعلق مذہبی کتب کی بناء پر رائے دریافت کی۔انہوں نے بتایا کہ بظاہر تو یہ وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کا ہمیں وعدہ دیا گیا تھا۔کعب اس جواب پر بہت بگڑا اور اس نے انہیں سخت ست کہہ کر وہاں سے رخصت کر دیا اور جو مالی امداد وہ انہیں دیا کرتا تھا ، وہ نہ دی۔یہودی علماء کی جب روزی بند ہوئی تو کچھ عرصے کے بعد پھر کعب کے پاس گئے اور کہا کہ ہمیں علامات کے سمجھنے میں غلطی لگ گئی تھی۔ہم نے دوبارہ غور کیا ہے دراصل محمد (صلی م ) وہ نبی نہیں ہے جس کا وعدہ دیا گیا تھا۔اس جواب سے کعب کا مطلب حل ہو گیا اور اس نے خوش ہو کر ان کو سالانہ امداد دے دی۔(زرقانی ، قتل کعب بن الاشرف، دار الکتب العلمیہ، بیروت) یہ تو محض ایک مذہبی مخالفت تھی جو چنداں قابل اعتراض نہیں ہو سکتی تھی اور نہ اس بناء پر کعب کو زیر الزام سمجھا جاسکتا تھا۔مگر اس کے بعد