توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 46 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 46

توہین رسالت کی سزا 1 کعب بن اشرف { 46 - قتل نہیں ہے مدینے کے ایک یہودی کعب بن اشرف کے قتل کے واقعے کو اس موقف کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ شتم رسول یا توہین رسالت کی سزا قتل ہے۔کیونکہ اسے اسی جرم کی سزا کے طور پر قتل کیا گیا تھا۔اس واقعے کا پس منظر اور تفصیل یہ ہے کہ جنگ بدر میں اسلام کی فتح نے مدینے کے ر یہودیوں کی دلی عداوت کو پوری طرح ظاہر کر دیا تھا۔مدینے کے یہودی قبیلے بنو قینقاع کی میٹنہ فتنہ پر دازیوں اور سرکشیوں کی وجہ سے انہیں وہاں سے جلا وطن کیا گیا۔ان کی یہ جلاوطنی بھی مدینے کے دوسرے یہودی قبائل کو نہ عبرت دلا سکی اور نہ ہی انہیں اصلاح کی طرف مائل کر سکی۔لہذاوہ اپنی شرارتوں اور فتنہ پردازیوں میں ترقی کرتے گئے۔چنانچہ کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ سازشوں اور فتنہ پر دازیوں کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔کعب گومذہب یہودی تھا لیکن یہودی النسل نہ تھا، بلکہ باپ کی طرف سے عرب تھا۔اس کا باپ اشرف قبیلہ بنو نہان کا ایک ہوشیار اور چلتا پر زہ آدمی تھا جس نے مدینے آکر بنو نضیر کے ساتھ تعلقات پیدا کئے۔وہ ان کا حلیف بن گیا اور بالآخر اس نے ان میں اتنا اقتدار اور رسوخ پیدا کر لیا کہ قبیلہ بنو نضیر کے رئیس اعظم ابو رافع بن ابی الحقیق نے اپنی لڑکی اُسے رشتے میں دے دی۔(ابن ہشام ، مقتل کعب بن اشرف۔دار الکتب العلمیہ، بیروت۔ایڈیشن 2001ء) اسی لڑکی کے بطن سے کعب پیدا ہوا جس نے بڑے ہو کر اپنے باپ سے بھی بڑھ کر رتبہ حاصل کیا۔حتی کہ بالآخر اُسے یہ حیثیت حاصل ہو گئی کہ عرب کے یہودی اسے اپنا ایک سردار قرار دیتے تھے۔کعب ایک قادر الکلام شاعر ، نہایت دولت مند آدمی اور وجہیہ و شکیل شخص تھا۔وہ ہمیشہ اپنی قوم کے علماء اور دوسرے ذی اثر لوگوں کو اپنی مالی فیاضی سے اپنے ہاتھ میں رکھتا تھا۔(زرقانی، قتل کعب بن